زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 89
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 89 جلد دوم لوگ سمجھ سکتے ہیں۔مگر ایک روپیہ والا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔تو دوسرے لوگوں کے سامنے قابلیت کا یہ معیار تھا۔مگر ہمارا طریق یہ ہونا چاہیئے کہ ہم ایسے رنگ میں بات کریں جسے ہر شخص سمجھ سکے۔ہماری اصطلاحات ایسی ہوں جو معمولی پڑھے لکھے کے لئے بھی بوجھ نہ ہوں کیونکہ ہمارا کام لوگوں تک حق پہنچانا ہے۔اس کے لئے آسان سے آسان اور سادہ سے سادہ طریق ہونا چاہئے۔پس ہماری زبان میں ایسی شنگی اور سلاست ہونی چاہئے کہ اگر ادنی درجہ کے لوگوں میں بھی کلام کریں تو وہ آسانی سے سمجھتے جائیں۔اس کے لئے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان کی نقل کرنی چاہئے جو آپ کی کتب میں ہے۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس مبلغ کے اخلاص کو جو واپس آیا قبول فرمائے اور آئندہ اخلاص میں ترقی اور برکت دے۔کیونکہ وہی چیز اچھی ہوتی ہے جس کا انجام اچھا ہو۔بہت چیزیں ابتدا میں اچھی ہوتی ہیں مگر ان کا انجام خراب ہوتا ہے اور بہت چیزوں کی ابتدا خراب ہوتی ہیں لیکن انجام اچھا ہوتا ہے۔لیکن بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی ابتدا بھی اچھی ہوتی ہیں اور انجام بھی اچھا ہوتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ ان کو یہی بات عطا کرے۔ذاتی بڑائی اور ذاتی وقار کا انہیں خیال نہ ہو۔اسی طرح ان بچوں کے لئے دعا کرتا ہوں جنہوں نے دعوت کی کہ خدا تعالیٰ انہیں دین کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا کثرت سے مطالعہ کیا کریں۔ایک دفعہ میرے پاس ایک تعلیم یافتہ سکھ آیا اور کہنے لگا میں نے حضرت مرزا صاحب کی کتابیں پڑھی ہیں اور پنڈت دیانند جی کی کتابیں بھی پڑھی ہیں۔پنڈت صاحب تو کج بحث معلوم ہوتے ہیں مگر مرزا صاحب خدا رسیدہ ظاہر ہوتے ہیں۔لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے عام طور پر ان کی کتابوں کی قدر نہیں کی۔اگر حضرت مرزا صاحب کے سر پر کیس ہوتے تو سارے سکھ ان کے ساتھ ہو جاتے۔پھر کہنے لگا معاف کریں میں نے دیکھا ہے آپ کی جماعت کے مبلغین میں بحث کا رنگ زیادہ پایا جاتا ہے۔ان میں وہ روحانیت نظر نہیں آتی جو حضرت مرزا صاحب کی