زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 88
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 88 جلد دوم رسول کریم ﷺ کے متعلق جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہی ہمیں استعمال کرنے چاہئیں کیونکہ وہ قلب پر زیادہ اثر کرتے ہیں۔میں نے مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ اردو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں سے سیکھیں۔اور اب پھر یہی نصیحت کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض پنجابی زبان کے الفاظ بھی اردو زبان میں استعمال کئے ہیں جن پر مخالف اعتراض کرتے ہیں۔اوّل تو ہم سمجھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ اردو میں شامل ہو کر رہیں گے۔کیونکہ اب اردو کے حامل احمدی ہوں گے یا یہ کہ اردو کے حامل احمدی ہو جائیں گے۔آج یورپین لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں پانچ سو کے قریب الفاظ غیر زبان کے ہیں مگر ہر عرب کہتا ہے کہ وہ الفاظ ہمارے اپنے ہیں غیر کے نہیں۔کیونکہ قرآن میں آجانے کی وجہ سے ہمارے ہو گئے ہیں۔اسی طرح زمانہ خود اردو زبان کو اس طرف لے جا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ اردو کے سمجھے جائیں گے۔پس ہمارے طلباء کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب نمونہ اور ماڈل ہونی چاہئیں۔خصوصاً آخری زمانہ کی کتابیں، ان کی روانی اور سلاست پہلے کی نسبت بہت بڑھی ہوئی ہے۔ان کی اردو نمونہ کے طور پر ہے اور وہی اردو دنیا میں قائم رہے گی۔پس ہمیں نقل اس شاہسوار کی کرنی چاہئے جو میدان میں کھڑا رہے نہ ان کی جو بھاگ رہے ہیں۔باقی رہی شاعری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس میں بھی سہولت پیدا کر دی ہے۔اصل مقصد یہ ہونا چاہئے کہ جو بات کہی جائے وہ عمدگی سے لوگوں کے ذہن نشین ہو سکے۔لیکن دوسروں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ سمجھیں یہ کوئی خاص زبان جانتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے ایک آدمی نے مجھے آکر کہا ایک بہت بڑا مولوی آیا ہے جو تین قسم کے وعظ کر سکتا ہے۔ایک چار آنے والا ، ایک آٹھ آنے والا ، روپیہ والا۔چار آنے والا وعظ تو عام لوگ سمجھ سکتے ہیں۔اور آٹھ آنے والا بعض