زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 87
زریں ہدایات (برائے مبلغین) میرے سر پر لگتا تو نا معلوم میرا کیا حال ہوتا۔87 جلد دوم یہ ایک لطیفہ ہے لیکن در حقیقت اگر ان چیزوں کا نقشہ کھینچا جائے تو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین پر اعتراض کرنے والے خود ہنسنے لگ جائیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ابتدائی زمانہ کی تحریروں میں اگر بعض الفاظ ایسے آ بھی جائیں تو ان پر ہم بنیاد نہیں رکھ سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی براہین احمدیہ سے پہلے اور بعد کی اردو میں بڑا فرق ہے۔لیکن خواہ کسی وقت کی اردو لے لیں دوسرے لوگوں کی اردو میں اور اس میں بہت فرق ہے۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دینی امور میں اصلاح کی ہے وہاں اردو زبان میں بھی بہت بڑی اصلاح کی ہے۔چنانچہ ایک شخص نے لندن یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے انگریزی لٹریچر کا اردو لٹریچر پر اثر کے عنوان سے ایک تھیس (Thesis) لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آپ کی تحریروں نے زبان اردو پر خاص اثر ڈالا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصلاحات صرف مذہبی دائرہ میں ہی نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو میں آپ نے اصلاح کی ہے۔اور ہمیں اپنی اصلاحات کو دنیا میں رائج کرنا چاہئے۔آج کے ایڈریس میں رسول کریم ہی ہے کے متعلق خواجہ دو جہاں کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔معلوم ہوتا ہے پرانے زمانہ کی کتابیں پڑھنے سے یہ اثر قبول کیا گیا ہے۔کسی وقت یہ الفاظ رسول کریم ﷺ کے متعلق استعمال ہوتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تحریر کی سلاست اور روانی نے اس قسم کے الفاظ کو مٹا کر ایسے الفاظ رکھے جو سیدھے قلب پر اثر کرتے ہیں۔اسی طرح خدائے ایزد کہا گیا ہے۔ایزد کا لفظ آتش پرست ایرانیوں سے لیا گیا ہے۔ہمیں اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔اگر کوئی شاعر ضرورت شعری کی وجہ سے ایسا کوئی لفظ استعمال کر لے یا اگر مخاطب ایسے لوگ ہوں جن کے لئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے ضروری ہوں تو یہ اور بات ہے۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ اور صلى الله