زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 86
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 86 جلد دوم ہیں ہمارے ہر کام میں وہ اثر ہونا چاہئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا کیا ہے۔مگر مجھے یہ معلوم کر کے افسوس ہوا کہ اس وقت جو ایڈریس پڑھا گیا ہے اس میں بعض اصطلاحات وہی استعمال کی گئی ہیں جو تکلف کے ساتھ دوسرے لوگ استعمال کرتے ہیں اور جن تکلفات سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم کو نکالا ہے۔ممکن ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابتدا میں اس قسم کی کوئی اصطلاح استعمال کی ہو۔مگر نئی زمین اور نیا آسمان بننے میں بھی وقت لگتا ہے۔ایک بچہ 9 ماہ کے بعد پیدا ہوتا ہے اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے پیدا نہیں کر سکتا بلکہ اس لئے کہ ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔میں نے ایک دفعہ بیان کیا تھا کہ اگر بچہ فوراً پیدا ہو جائے اور فوراً بڑا ہو جائے تو عجیب مصیبت کا سامنا ہوتا۔ابھی زچگی کا سامان تیار نہ ہوتا کہ بچہ پیدا ہو جاتا۔پھر پیدا ہونے کے بعد اس کے لئے جب کپڑے تیار کئے جاتے تو وہ اتنا بڑا ہو چکا ہوتا کہ کپڑے اسے پورے نہ آتے۔پھر اور بڑے کپڑے بنائے جاتے تو وہ جوان ہو چکا ہوتا۔غرض یہ ایک مضحکہ خیز بات بن جاتی۔اب جس عرصہ میں بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اس لئے نہیں کہ خدا اس کا محتاج ہے بلکہ ہم اس کے محتاج ہیں۔ہماری ضروریات اس کی محتاج ہیں۔ادھر بچہ پیدا ہوتا ادھر جوان ہو جاتا تو اس کی تعلیم و تربیت کس طرح ہو سکتی۔ماں باپ بچہ سے کہتے سکول جاؤ لیکن بچہ کہتا میں جوان ہوں میری شادی کرو۔اس طرح ایسی ابتری پھیل جاتی کہ جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا جوان پیدا نہیں کر سکتا اتنی دیر کے بعد بچہ کیوں پیدا کرتا ہے وہ جھٹ کہہ اٹھتے کہ ہم نے بھر پایا 3 ہمیں بچہ پیدا ہونے کا وہی طریق اور وہی اٹھارہ سال کے بعد بلوغت کا طریق چاہئے۔ان کی گڈریا کی مثال ہوتی۔جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک بڑے درخت پر چھوٹا سا آم اور کمزورسی بیل کے ساتھ بہت بڑا کدو دیکھا تو کہنے لگا یہ بھی کوئی انصاف ہے۔اسی خیال میں وہ آم کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا کہ اوپر سے ایک آم اس کے سر پر گرا۔اس کے لگتے ہی جھٹ بول اٹھا میں سمجھ گیا خدا نے جو کچھ کیا وہی ٹھیک ہے۔اگر آم کی بجائے اتنا بڑا کدو