زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 83

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 83 جلد دوم عرصہ سے میں ان کی شکل تو دیکھتا ہوں گا لیکن یہ سمجھ کر نہ دیکھی تھی کہ یہ وہی محمد عبد اللہ ہیں۔اور جب آج کے پروگرام میں ایڈریس کے سامنے ان کا نام پڑھ کر میں نے ان کی شکل دیکھی تو یہ نہ سمجھا کہ یہ وہی ہیں۔مجھے اس بارے میں شبہ پڑا اور میں نے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ وہی لڑکا ہے؟ اور ان کے بتانے پر مجھے معلوم ہوا۔اللہ تعالیٰ نے کیا عجیب قانون بنایا ہے کہ ایک بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے، پھر بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن جو اسے بچہ دیکھتے ہیں ان کے سامنے اس کی کیفیت بچہ والی ہی رہتی ہے۔اگر میں آج انہیں نہ دیکھتا اور اگر دیکھتا تو نہ پہچانتا۔اور دس پندرہ سال کے بعد دیکھتا تو میرے سامنے ان کی وہی بچپن والی شکل ہوتی۔کسی دینی فلاسفر نے کہا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر رنج جو پیدا کیا ہے اس کے ساتھ برکت بھی رکھ دی ہے۔اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو مثنوی والے نے بیان کیا ہے کہ ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است لیکن وہ اور مضمون ہے جس کی طرف انہوں نے اشارہ کیا ہے۔خدا تعالیٰ جو مشکل پیدا کرتا ہے اس کے اندر خوشی بھی ہوتی ہے۔ہر مصیبت جو آتی ہے خواہ وہ کافر پر آئے یا مومن پر اس میں بہتری اور بھلائی کا پہلو بھی ہوتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ ارحم الراحمین ہے اس لئے جب کوئی ایسی بات بھیجتا ہے جو تکلیف دہ ہوتی ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی خوبی کا پہلو بھی ہوتا ہے۔اس کے ماتحت وہ فلاسفر یہ بتاتا ہے کہ مثلاً جوانا مرگی 1 بظاہر تکلیف دہ چیز ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور چیز بھی لگی ہے جو احساسات سے تعلق رکھنے والی ہے۔ایک شخص کی جوان بیوی فوت ہو جاتی ہے، ایک بیوی کا جوان خاوند فوت ہو جاتا ہے، ایک بھائی کا جوان بھائی فوت ہو جاتا ہے، ایک دوست کا جوان دوست فوت ہو جاتا ہے لیکن جو زندہ رہتے ہیں ان کی نگاہ میں 70، 80 سال کی عمر ہو جانے پر بھی فوت ہونے والے کی جوانی کی شکل ہی پھرتی رہے گی۔ایک شخص کی زندہ رہنے والی بیوی بوڑھی ہو جائے گی