زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 84

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 84 جلد دوم اور جذباتی طور پر اس کی شکل بدل جائے گی مگر فوت ہونے والی جوان بیوی اسی شکل میں آنکھوں کے سامنے پھرے گی جس شکل میں فوت ہوئی ہوگی۔ایک چھوٹا بھائی زندہ رہتا ہے اور اس سے بڑا فوت ہو جاتا ہے۔لیکن جب تک چھوٹا بھائی زندہ رہتا ہے وہ خود بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اپنے فوت ہونے والے بڑے بھائی کو جوان ہی دیکھتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے تکالیف اور مصائب کے کئی بدلے جذباتی رنگ میں مقرر کئے ہیں جو مادی رنگ میں نظر نہیں آتے۔میں نے ضمنی طور پر یہ بات بیان کی ہے جو میرے ذہن میں ایڈریس پڑھنے والے کو دیکھ کر آئی۔میری نگاہ میں وہ اتنی عمر کا ہی بچہ تھا جس عمر میں میں نے اسے یہاں آنے پر دیکھا تھا۔اصل بات جو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو جماعتیں قائم کی جاتی ہیں آسمانی اصطلاح میں ان کا پیدا کرنا نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرنا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان پر جاری کیا گیا کہ ”ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں 2 اور اسی کشف میں آپ نے دیکھا کہ آپ نے نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کی۔نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام نہ ہوتا تو آپ کے نبی ہونے میں شک ہوتا۔اگر نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرنے کے لئے نبی نہیں آتا تو پھر اس کے آنے کی کیا ضرورت ہے۔نبی اسی وقت آتا ہے جب دنیا دین سے ناواقف ہو جاتی ہے۔ابو حیان نے اپنی تفسیر میں یہ سوال اٹھایا ہے۔کہتے ہیں یہ نہیں کہ نبی آکر دنیا کو کافر بنا دیتا ہے۔یہ غلط ہے بلکہ نبی آتا ہی اُس وقت ہے جب دنیا کا فربن چکی ہوتی ہے اور وہ آ کر مومن بناتا ہے۔اس کی مثال سورج کی سی ہوتی ہے جو روشن ہو کر لوگوں کو ان کا گند دکھا دیتا ہے۔اس کی مثال اس سالن کی سی نہیں ہوتی جس میں بہت زیادہ مرچیں پڑی ہوں اور جس کے کھانے سے پیچش ہو جائے۔بلکہ ڈاکٹر کی ہوتی ہے جو یہ بتاتا ہے کہ پیچش پیدا ہو چکی ہے۔پس نبی آتا ہی اُس وقت ہے جب لوگ کفر کی حالت کو پہنچ چکے ہوں اور