زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 82
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 82 جلد دوم احمدیوں کو اردو سیکھنے کے لئے حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھنی چاہئیں 22 جولائی 1933ء کو طلباء مدرسہ احمدیہ و جامعہ احمدیہ نے مکرم مولوی نذیر احمد صاحب مبلغ افریقہ کوئی پارٹی دی جس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی بھی تشریف لائے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔" آج کی مجلس ہمارے مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے طلباء کی طرف سے مولوی کی نذیر احمد صاحب مبلغ گولڈ کوسٹ کی آمد پر منعقد کی گئی ہے۔جہاں یہ مجلس اور اس قسم کی دوسری مجالس جماعت میں اس روح کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی محرک ہوتی ہیں جس کے بغیر وہ کام جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے مکمل نہیں ہوسکتا وہاں جماعت کو ان حالات سے واقف کرنے کا موجب بھی ہوتی ہیں جن میں سے ہمارے مبلغ گزرتے ہیں۔لیکن ان مجالس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہمارے مدرسہ کے طلباء جس رنگ کو اخذ کر رہے ہوتے ہیں وہ سامنے آ جاتا ہے اور اس طرح ہمیں ان کے حالات سے آگاہ ہو کر بعض نصائح کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔آج کا ایڈریس مدرسہ کی طرف سے ایک لڑکے محمد عبد اللہ نے پڑھا ہے۔مجھے ایک طرف تو خوشی ہوئی کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا یہ ایک بچہ کی حیثیت میں میری ہی تحریک پر کشمیر سے آئے۔جب میں 1921ء میں کشمیر گیا تو میں نے تحریک کی تھی کہ کشمیری طالب علم مدرسہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئیں۔اس تحریک پر یہ بھی آئے تھے۔کچھ