زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 72
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 72 جلد دوم موجود ہیں۔گو بحیثیت قوم ہمیں امتیاز حاصل ہے مگر افراد کے لحاظ سے زیادہ قربانیاں کرنے والے مل سکتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ان کی تمام قربانیاں قوم یا ملک کے لئے ہوتی ہیں یا اس مذہب کے لئے ہوتی ہیں جسے وہ قوم کی طرح سمجھتے ہیں۔مگر ہم میں سے ہر شخص کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اس کام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اعمال انسانی نیت پر موقوف ہوتے ہیں 5 چونکہ ہمارے کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہے اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تائید حاصل ہو جاتی ہے۔پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے تمام کاموں میں للہیت پائی جانی چاہئے۔قربانی چھوٹی ہو یا بڑی اگر للہیت ہوگی تو چھوٹی قربانی بھی بڑی ہو جائے گی۔اور اگر للہیت نہ ہوگی تو بڑی قربانی بھی کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکے گی۔پس اصل چیز جو برکت کا موجب ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری تمام قربانیاں محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوں۔اگر ہم یہ مقصد لے کر کھڑے ہو جائیں تو دنیا سے تمام لڑائیاں اور جھگڑے فتنے اور فساد دور ہو جائیں اور بہت سی خلشیں جو امن سے محروم کر دیتی ہیں نا پید ہو جائیں۔کیونکہ جب کوئی شخص خدا کے لئے کام کرتا ہے اُسی وقت اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔وہ بندوں کی تعریف کا مشتاق نہیں ہوتا بلکہ اگر کوئی کرے تو شرمندہ ہو جاتا ہے اور دل میں کہتا ہے کہ جس کی خاطر میں نے کام کیا تھا اگر وہ خاموش ہے تو ان لوگوں کی تعریف سے مجھے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے تمام کا رکنوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ افسر اور ماتحت، ناظر اور محرر کے امتیاز کو تمدنی معاملات میں نہ لے جائیں اور سمجھ لیں کہ ہم سب کا اصل مقصد یہ ہے کہ متحدہ طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔اس کے بعد میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کی خدمت کو قبول فرمائے کی جنہوں نے یہ دعوت کی اور انہیں نیک اجر دے۔کیونکہ انہوں نے اپنے ایک بھائی کی آمد پر خوشی منائی۔اسی طرح میں خانصاحب کے لئے دعا کرتا ہوں کہ جو خدمات وہ بجا لائے ہیں اللہ تعالیٰ