زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 71
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 71 جلد دوم امتیاز ہے جو ہم میں اور دوسروں میں ہے۔اور یہی وہ امتیاز ہے جس کی وجہ سے ہمارا تھوڑا کام بھی دوسروں سے زیادہ بہتر نتیجہ پیدا کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کا واقعہ ہے ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے کفار سے جنگ کر رہا تھا۔صحابہ کہتے ہیں وہ اس قدر سر گرمی سے جنگ میں مصروف تھا کہ ہمیں رشک آتا تھا۔اتنے میں ایک صحابی نے دوسرے سے کہا دیکھو یہ کیسا جنتی آدمی ہے۔رسول کریم کے کان میں بھی یہ آواز پہنچ گئی۔آپ نے فرمایا اگر کسی نے دنیا کے پردے پر دوزخی چلتا پھرتا دیکھنا ہو تو وہ اس لڑنے والے کو دیکھ لے۔چونکہ مسلمانوں کی ظاہری طور پر وہ بہت حمایت کر رہا تھا اس لئے رسول کریم ﷺ کی اس بات سے صحابہ کے دلوں میں تزلزل پیدا ہوا اور انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اسلام کے لئے اتنی قربانی کرے اور پھر بھی وہ دوزخ میں جائے۔ایک صحابی کہتے ہیں جب لوگوں کے دلوں میں میں نے یہ وسوسہ پیدا ہوتے دیکھا تو میں نے کہا خدا کی قسم ! میں اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔وہ صحابی کہتے ہیں میں اس کے پیچھے پیچھے رہا؟ یہاں تک کہ وہ اسی جنگ میں شدید زخمی ہوا۔آخری وقت سمجھ کر لوگ اس کے پاس آتے اور کہتے تمہیں جنت کی بشارت ہو مگر وہ کہتا مجھے جنت کی کیوں خبر دیتے ہو دوزخ کی خبر دو کیونکہ میں نے آج اسلام کے لئے جنگ نہیں کی بلکہ ان کفار سے مجھے کوئی پرانا بغض تھا اس کا بدلہ لینے کے لئے میں ان سے لڑا۔پھر اس کی حالت جب زیادہ خراب ہو گئی تو اس نے برچھی زمین پر گاڑی اور اس پر گر کر خود کشی کر لی۔وہ صحابی کہتے ہیں میں آیا۔رسول کریم مجلس میں بیٹھے تھے۔میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ؟ اس صحابی نے تمام داستان سنائی۔تب آپ نے بھی فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کا رسول ہوں۔4 تو ظاہری قربانیاں دیکھی جائیں تو دنیا میں ہم سے زیادہ قربانیاں کرنے والے صلى الله