زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 64
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 64 جلد دوم آیا ہے اپنے اپنے گھر کھانا تیار رکھنا۔اور اتنا کہہ کر وہ سمجھ لے کہ اس کا فرض ادا ہو گیا۔ذاتی طور پر میں ہمیشہ آنے والے مبلغین کے اعزاز میں حصہ لیتا ہوں إِلَّا مَا شَاء الله اگر بعض دفعہ نہ ہو سکا ہو تو یہ اور بات ہے ورنہ جب بھی کوئی مبلغ آتا ہے میں ہمیشہ اس کی دعوت کرتا ہوں تا کہ جماعت میں یہ احساس رہے کہ ہم ان لوگوں کے کاموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔غرض میرا نمونہ ان لوگوں کے لئے موجود تھا اور نچلے لوگوں کا نمونہ بھی موجود تھا یعنی طالب علموں کا۔کیونکہ وہ نچلے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی نگاہیں راہ نمائی حاصل کرنے کے لئے ہماری طرف اٹھا کرتی ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ اوپر سے انہوں نے مجھے اعزاز کرتے دیکھا اور نیچے سے طالب علموں کو ، قادیان کی لوکل انجمن احمد یہ اور نظارت دعوت و تبلیغ نے کبھی مبلغین کی آمد پر اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا۔وہ اپنا فرض صرف یہی خیال کرتے ہیں کہ دوسروں کی پارٹی میں حصہ لیا اور چلے گئے۔حالانکہ میں سے پہلا حق ناظر دعوت و تبلیغ کا ہے کہ وہ ذاتی طور پر نہیں بلکہ نظارت کا نمائندہ ہو کر مبلغ کا خیر مقدم کرے۔دنیا کی حکومتوں میں بھی جب کوئی شخص نمایاں کام کر کے آتا ہے تو فارن سیکر ٹری اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ حکومت اس کی خدمات کو تسلیم کرتی اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔اگر اسی دعوت میں تحریک کر دی جاتی اور کسی کو خیال آ جاتا که ناظروں کو بھی کہہ دینا چاہئے کہ وہ اس میں شریک ہو جائیں تو میں سمجھتا ہوں اس پرانی کوتاہی کے ازالہ کی صورت نکل آتی۔مگر کسی وجہ سے نہ محرروں کو یہ خیال آیا اور نہ ہی سمجھتا ہوں ت ناظروں کو۔میں اس بات کا بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ سوشل تعلقات میں امتیاز نہیں ہوتا۔محرر یا ناظر ہونا، چھوٹا یا بڑا ہونا محض انتظامی امور کے لئے ہے۔ورنہ اسلام تو آیا ہی اسی لئے ہے کہ تا وہ تمام بنی نوع انسان میں محبت اور اخوت کے تعلقات قائم کرے۔وہ جہاں اس قدر شدید صال الله اطاعت قائم کرتا ہے کہ رسول کریم ﷺے جیسا مہربان بھی فرماتا ہے مَنْ أَطَاعَ أَمِيْرِى فَقَدْ أَطَاعَنِيْ وَمَنْ عَصَى اَمِيْرِى فَقَدْ عَصَانِي 1 یعنی جس نے میرے امیر کی اطاعت