زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 63
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 63 جلد دوم چاہئے تو کیا وجہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے افسروں کو اس میں شامل نہ کیا۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں انہیں قصور وار سمجھتا ہوں۔میں ان پر الزام نہیں رکھتا۔صرف اپنی حیرت کا اظہار کرتا ہوں کہ کیا اس کا موجب یہ خیال ہوا کہ انہوں نے سمجھا اگر ہم یہ سوال اٹھائیں گے تو ممکن ہے جو افسر سمجھے جاتے ہیں کہیں کہ ہم اس میں کیوں حصہ لیں۔یا یہ کہ انہیں اس امر کا خیال نہیں آیا کہ افسروں کو بھی شریک کیا جائے۔اگر نہیں خیال آیا تب بھی قابل افسوس بات ہے کیونکہ اس کی بھی کوئی وجہ ہو سکتی ہے۔اور اگر امتیاز سمجھا گیا تب تو قابل افسوس بات ہے ہی۔ذاتی طور پر میں ہمیشہ حیران رہا ہوں کہ خلافت کو چھوڑ کر دو محکمے ایسے ہیں جنہیں ایسے موقع پر جب کوئی مبلغ باہر سے آئے اور وہ ایسا مبلغ ہو جس کی خدمات اسلام کی ترقی کے لئے ہوں اور اس کا اعزاز جماعت پر واجب ہو اس کی دعوت میں حصہ لینا چاہئے۔مگر دونوں محکموں نے آج تک اس میں حصہ نہیں لیا۔اور مجھے ہمیشہ حیرت رہی ہے کہ جن دو محکموں کا یہ فرض ہے کہ وہ باہر سے آنے والے مبلغین کا اعزاز کریں وہی دو محکمے ہمیشہ لا پرواہ رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی بحیثیت محکمہ اس میں حصہ نہیں لیا۔جب کوئی مبلغ باہر جا تا ی تبلیغ کے بعد قادیان واپس آتا ہے تو میں دیکھتا ہوں تعلیم الاسلام ہائی سکول، مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمد یہ اس کے اعزاز میں حصہ لیتے ہیں۔بعض ذاتی دوست ہوتے ہیں وہ اپنے طور پر دعوت کر دیتے ہیں حالانکہ جو مبلغ باہر جاتا یا باہر سے قادیان آتا ہے اس کا خلافت کے بعد پہلا تعلق ناظر دعوت و تبلیغ سے ہوتا ہے۔اور اس کا دوسرا تعلق قادیان کی مقامی جماعت سے ہوتا ہے۔لیکن اگر میرا حافظہ غلطی نہیں کرتا تو جب سے کہ یہ سلسلہ تبلیغ شروع ہوا ہے میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ کبھی ناظر دعوت و تبلیغ یا لوکل انجمن کی طرف سے آنے والے مبلغین کو دعوت نہ سہی ، اعزازی پارٹی ہی دی گئی ہو۔مجھے جب بھی یہ خیال آیا کرتا ہے میں سمجھتا ہوں ان کی مثال دیسی ہی ہے جیسے کسی شخص کے گھر مہمان آئے اور وہ باہر نکل کر اعلان کرنا شروع کر دے کہ بھائیو! میرے ہاں مہمان