زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 65
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 65 جلد دوم کی اس نے میری اطاعت کی۔اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کے طریق میں سوشل معاملات کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں تھا۔اور اگر ہم اپنی زندگیوں میں ان امتیازات کو مٹا نہ سکیں سوائے ادب اور محبت کے امتیازات کے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم اسی ملوکیت کو قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے مٹانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔میں سمجھتا ہوں اگر محرروں کے دل میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ ناظروں کو اس میں شامل کرتے تو خود ناظروں کو یہ احساس ہونا چاہئے تھا کہ وہ رشک سے محرروں سے کہتے کہ ہمیں کیوں اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ہمیں بھی حصہ دار بناؤ اور شامل کرو۔اور اگر محرروں کے دل میں یہ شبہ تھا کہ وہ ناظر ہیں اور ہم محرر ہمکن ہے وہ اس میں شریک ہونا پسند نہ کریں تو ناظروں کا فرض تھا کہ وہ خود اس شبہ کو دور کرتے اور اس طرح ایک وقت میں دونوں اعزاز میں حصہ لیتے۔اس کے بعد میں کچھ اس کام کے متعلق کہنا چاہتا ہوں جس کے لئے خان صاحب ولایت گئے تھے۔جس وقت در دصاحب کی انگلستان سے واپسی کا وقت آیا اور میں نے دوستوں سے اس بارہ میں مشورہ لیا کہ ان کی جگہ خانصاحب کو ولایت بھیجا جائے تو کئی دوستوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوا کہ چونکہ خانصاحب نے یہ کام اس رنگ میں پہلے نہیں کیا اگر چہ وہ پنجاب میں بعض جماعتوں کے امیر رہے ہیں مگر چونکہ یہ جدید نوعیت کا کام ہے اس لئے ممکن ہے وہ اسے بخوبی سر انجام نہ دے سکیں۔لیکن اُس وقت میرے دل میں جو چیز تھی وہ یہ تھی کہ جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ظاہری قابلیت کے ساتھ دل میں اخلاص اور خشیت ہو۔اور میں سمجھتا تھا اگر ایسا ہوگا تو کوظاہری حالات کیسے ہی ہوں کی اللہ تعالٰی اخلاص کو قبول کر کے اس کمی کو پورا کر دے گا۔اس میں شبہ نہیں کام کی نوعیت کے لحاظ سے جس قسم کے تجربہ کی ضرورت تھی وہ خانصاحب کو حاصل نہیں تھا اور ظاہری حالات