زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 62
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 62 جلد دوم ایسی چیزیں ہیں جو کسی قانون کے ماتحت نہیں آتیں۔کوئی قانون دنیا میں ادب کے امتیاز کی حد بندی نہیں کر سکتا اور کوئی قانون دنیا میں محبت کے امتیاز کی حد بندی نہیں کر سکتا۔اس لئے کہ قانون محدود الفاظ میں ہوتا ہے لیکن ادب اور محبت نہایت وسیع حلقہ رکھتے ہیں۔بچپن میں ہم ایک کہانی پڑھا کرتے تھے کہ کوئی شخص تھا جو نہایت سخت گیر تھا اور ہمیشہ اپنے نوکروں سے ایسے کاموں کا تقاضا کرتا جو ان کے فرائض میں شامل نہ ہوتے۔اور جب وہ انہیں سر انجام نہ دے سکتے تو نکال دیتا۔آخر اپنے جیسا ہی اسے ایک نوکر مل گیا۔اس نے آتے ہی کہا حضور! میں آپ کی ہر خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر پہلے مجھے کا غذ پر لکھ دیں کہ میرے کیا کیا فرائض ہیں۔آقا کے ذہن میں جس قدر باتیں آسکتی تھیں وہ تمام اس نے کاغذ پر لکھ دیں اور سمجھ لیا کہ اب میں نے خوب اسے جکڑ لیا ہے اور اسے میرا ہر کام کرنا پڑے گا۔اتفاق ایسا ہوا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جا رہا تھا۔نو کر ساتھ تھا کہ گھوڑا بدک کر بھا گا۔آقا گر پڑا اور اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا۔اس نے شور مچایا اور نوکر سے کہا کہ مجھے بچاؤ۔مگر نوکر نے کا غذ نکال کر کہا سرکار! دیکھ لیجئے اس میں یہ کام نہیں لکھا۔تو ادب اور بنی نوع انسان کی محبت نہایت وسیع مضامین ہیں۔اتنے وسیع کہ خدا کی کتاب نے بھی انہیں تفصیل سے بیان نہیں کیا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کو ان باتوں کا علم نہیں۔علم ہے لیکن اگر وہ بیان کرتا تو اتنی ضخیم کتاب ہو جاتی کہ قیامت تک پڑھنے کے باوجود انسان اسے مکمل طور پر نہ پڑھ سکتا۔پس میں اس بات کے سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ وہ سوشل تعلقات جو افراد میں پائے جاتے ہیں اور جن کو اسلام نے قائم کیا ہے ان کے بارے میں ہم میں کسی قسم کا امتیاز ہو۔اور اگر ہے تو یقیناً اس امتیاز کو قائم نہیں رہنا چاہئے۔میں نہیں جانتا یہ دعوت جو تھی کیوں اور کن حالات کے ماتحت کلرکوں تک ہی محدود رہی۔اگر کلرکوں کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس موقع پر خان صاحب کوئی پارٹی دینی