زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 61

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 61 جلد دوم پیدا کیا اور وہ یہ کہ یہ دعوت جن لوگوں کی طرف سے تھی کیوں انہوں نے اس کا حلقہ اس حد تک محدود رکھا جس حد تک یہ محدود رکھا گیا ہے۔میں اس بات کے سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں، نہ صرف عقلاً بلکہ فطرتا بھی کہ اسلام کی موجودگی میں اور اسلامی طریق عمل کے ہوتے ہوئے ہمارے سوشل اور تمدنی تعلقات میں افسر اور ماتحت کا کوئی امتیاز ہے۔میری طبیعت نظام کے بارے میں جتنی سخت ہے اسے سب لوگ جانتے ہیں۔اطاعت ایک امیر کی یا اطاعت ایسے مامور کی جس کے لئے اطاعت کا مقام مقرر کیا گیا ہوا ایسی چیز ہے جسے میں اسلام کی ترقی اور سلسلہ کی بہبودی کے لئے نہایت ضروری خیال کرتا ہوں۔مگر باوجود اس کے کہ اطاعت کے معاملہ میں میں ایسا شدید ہوں کہ بعض لوگوں کو مجھ سے شکایت بھی پیدا ہوئی ہوگی اور ہونی چاہئے اور باوجود اس بات کے جاننے کے کہ اس معاملہ میں میں نہایت ہی سخت گیر واقع ہوا ہوں اب تک بھی میں اس امر پر قائم ہوں کہ اگر پھر کبھی مجھے نظام سلسلہ کے متعلق کسی امر کا فیصلہ کرنا پڑے تو میں اپنے پچھلے طریق عمل کو بدلنے کے لئے تیار نہیں۔میں اسلام کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے آج بھی نظام سلسلہ کی پابندی اسی طرح ضروری سمجھتا ہوں جس طرح آج سے پہلے ضروری خیال کرتا تھا۔اور اگر آج یا کل یا پرسوں یا آج سے دس سال کے بعد بھی مجھے ضرورت پیش آئے تو اطاعت کے معاملہ میں نہ صرف یہ کہ آگے سے کم سختی نہ کروں بلکہ اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ تربیت پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور اب تک مکمل اصلاح ہو جانی چاہئے تھی شاید پہلے سے بھی زیادہ سختی کروں۔لیکن باوجود اس کے میں خیال نہیں کرتا کہ تمدنی معاملات میں ہمارے درمیان کوئی امتیاز ہے۔جب تک کوئی کام ایک نظام کے ماتحت ہوتا ہے ایک آمر اور ایک مامور ہوتا ہے۔اُس وقت تک امتیاز قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔مگر جو نہی سوشل تعلقات کا وقت آ جاتا ہے یہ تمام امتیازات ختم ہو جاتے ہیں اور اُس وقت یہ اصل ہمارے درمیان قائم ہو جاتا ہے کہ اسلام کسی امتیاز کو تسلیم نہیں کرتا۔سوائے اس امتیاز کے جو ادب کا امتیاز ہے یا سوائے اس امتیاز کے جو محبت کا امتیاز ہے۔یہ دونوں