زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 53

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 53 جلد دوم بحثوں میں آپ پڑے رہتے ہیں یہ آپ کو انجام کار گمراہ کر دیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بات کیسی عمدہ ہے کہ ایک باپ کو اس سے کیا غرض کہ اس کے بیٹے کا جگر کہاں ہے، تلی کیسی ہے، دل کہاں ہے وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کا بیٹا ہے یا نہیں اور پھر اس سے پیار کرنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ہمارے تعلق کے لئے یہ کی کافی ہے کہ وہ ہمارا رب ہے اور ہم اس کے بندے ہیں۔وبس۔اس نے آدمی کو کہاں کی سے بنایا ، کیسے بنایا یہ فضول سوالات ہیں۔پس غیر مسلموں سے بحث کرتے وقت ان کی طرف سے تمہارے سامنے ضرور ایسے عقدہ ہائے لا ینحل پیش کئے جائیں گے۔یہ مت خیال کرو کہ زمیندار ان باتوں سے واقف نہیں ہوتے۔انہیں بھی مسلمانوں کی طرح چند اصطلاحات یاد ہوتی ہیں۔وہ تناسخ کی تفصیل بیان نہیں کر سکتے مگر وہ یہ ضرور کہہ دیں گے کہ اپنے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔آخر یہ جو دنیا میں فرق ہے یہ کیا ہے ؟ یاوہ کہہ دے گا کہ اسلام جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کا حکم دیتا ہے۔تو اپنے رنگ میں اور اپنے اصول پر ان کے اعتراضات ضرور ہوتے ہیں۔جس طرح کوئی مسلمان خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاقتوں سے واقف ہو یا نہ ہو ، دوران گفتگو میں عادتاً اِنشَاءَ الله کہہ دے گا۔حالانکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ساری طاقتیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، اس کے منشاء کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔سارے سامان اس کے پیدا کردہ ہیں اور اس کے تصرف کے نیچے ہیں میری کوششوں کے باوجود اللہ کا اختیار ہے کہ وہ چاہے تو یہ کام ہو اور اگر نہ چاہے تو نہ ہو۔مگر جاہل مسلمان ان باتوں کو نہیں جانتا لیکن اِنشَاءَ الله کہے گا ضرور۔تو جس طرح مسلمان کو بعض مذہبی اصطلاحات اور جملے یاد ہوتے ہیں اسی طرح ہندوؤں کو بھی یاد ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کے اعتراضات بھی ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ریل میں میرے ساتھ ایک سکھ آنریری مجسٹریٹ سفر کر رہے تھے۔وہ مجھے کہنے لگے کہ اگر آپ برا نہ منائیں تو میں ایک مذہبی سوال کرنا چاہتا ہوں۔میں نے انہیں کہا کہ مذہبی سوال میں برا منانے کی کیا ضرورت ہے۔پھر اس نے دو چار منٹ اپنے غیر متعصب ہونے کے متعلق تقریر کی اور