زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 52
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 52 جلد دوم وغیرہ اصطلاحات بھی دوسروں کو دھوکا میں ڈالنے کیلئے وضع کر لی گئی ہیں۔اور یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کے پاس دین موجود ہے۔جن کے پاس حقیقت تھی جب ان کے اندر کچھ کبھی آگئی تو اس قسم کی حرکات جب ان سے صادر ہونے لگیں تو جن کے پاس دین ہے ہی نہیں وہ کیا کچھ نہ کرتے ہوں گے۔اسی لئے ایسے مواقع پر ہندو کہہ دیتے ہیں کہ اچھا یہ بتایا جائے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیسے کیا۔مسلمان کے پاس چونکہ قرآن پاک موجود ہے اس کی لئے اسے دور جانے کی ضرورت نہیں پیش آتی مگر وہاں چونکہ یہ خانہ خالی ہی ہے اس لئے وہ یہیں سے شروع کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیسے کیا۔کیونکہ جتنی کم صداقت کسی کے پاس ہوگی وہ اتنا ہی دور سے شروع کرے گا۔وید چونکہ بہت پرانے ہیں اور ان میں بہت تغیرات ہو چکے ہیں اس لئے وہ پیدائش سے پہلے شروع کریں گے۔عیسائیوں اور یہودیوں کے پاس چونکہ ان کی نسبت زیادہ صداقت ہے وہ دنیا کی پیدائش سے تو نہیں مگر آدم کے گناہ سے شروع کریں گے۔ان لوگوں کی مثال بعینہ اس راجہ کی ہے جو بہت بخیل تھا۔اس کے پاس ایک برہمن آیا اور کہا کہ مجھے مدد کی سخت ضرورت ہے۔ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ سورگ 1 میں جانے کے خاص ذرائع میں سے ایک یہ ہے کہ برہمن کی بیٹی کی شادی کر دی جائے۔برہمن نے راجہ سے کہا میری بیٹی جوان ہے اس کی شادی کیلئے مجھے امداد دو۔وہ بخیل ہونے کی وجہ سے کچھ دینا بھی نہ چاہتا تھا اور ساتھ ہی برہمن کو صاف جواب دینا بھی اسے پسند نہ تھا اس لئے کچھ سوچ کر کہا کہ پر ارسال میری جو گائے گم ہو گئی تھی وہ لے لو۔اس کا بیٹا اس سے بھی زیادہ بخیل تھا۔اس نے کہا کہ اس سے بھی پہلے سال جو گائے مرگئی تھی وہ کیوں نہ اسے دے دی جائے۔یہی حال ان مذاہب کا ہے۔مسلمان تو زیر زبر کا جھگڑا ہی پیش کرے گا لیکن عیسائی آدم کے گناہ سے ادھر نہیں ٹھہرے گا۔مگر آر یہ پوچھے گا کہ خدا کو مادہ کہاں سے ملا۔غرضیکہ یہ سب بیچ دار گفتگو میں الجھتے اور دوسروں کو بھی الجھانا چاہتے ہیں اور نادان اس میں پھنس جاتے ہیں۔مولوی عمرالدین شملوی جو اب مرتد ہو چکے ہیں میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا تھا کہ جن