زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 54

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 54 جلد دوم کہا میں اسلام کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں مگر بعض باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔مثلاً آپ کے ہاں جو ختنہ کا حکم ہے مرد تو اس پر عمل کر سکتے ہیں عورت کیا کرے؟ میں نے کہا یہ کیا مشکل بات ہے آپ کے ہاں داڑھی رکھنے کا حکم ہے جو مرد تو رکھ سکتے ہیں مگر عورت کیا کرے؟ جو علاج آپ اس کے لئے تجویز کریں گے وہ ہماری طرف سے سمجھ لیں۔کہنے لگے ان کے تو ہوتی ہی نہیں۔میں نے کہا اسی طرح ختنہ کا حال ہے۔تو ایسے ایسے اعتراض کی ان لوگوں نے بنائے ہوئے ہوتے ہیں جن سے اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں۔قرآن کریم نے اس بارہ میں بھی راہنمائی کی ہے۔اس نے ظاہری الفاظ میں پیچیدہ مسائل کو پیش کیا ہے۔اس کا فلسفہ اس کے لفظوں کے نیچے چھپا ہوا ہے جو اسے نکالنا چاہے کرید کر نکال لے گا وگرنہ ایک عامی 2 کے لئے اس کے اندر سیدھی سادھی باتیں ہیں۔مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا کون ہے، تم کو ذلیل پانی سے پیدا کیا ہے، پھر تمہارے لئے سامانِ معیشت پیدا کئے ، تم مصیبتوں میں گھبراتے ہو، آفتوں پر روتے ہو، ہم نے زمین و آسمان کو تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے۔کیا موٹی موٹی باتیں ہیں جنہیں ایک زمیندار بھی سمجھ سکتا ہے۔پھر اس کے اور ورشنز (VERSIONS) ہوتے ہیں اور اُن کے اور۔لیکن ایک عامی کو یہ محسوس بھی نہیں ہوتا کہ قرآن کریم میں فلسفہ کی باتیں ہیں۔ہاں ایک فلسفی اس کے اندر فلسفہ کا بحر بیکراں دیکھتا ہے۔تو چونکہ آپ کو ہندوؤں اور سکھوں سے گفتگو کی زیادہ عادت نہیں اس لئے ان سے گفتگو کرتے وقت ضروری ہے کہ قرآن کریم کے طرز کی اتباع کریں۔اس کے الفاظ سہل اور دلائل میں سادگی ہے۔قرآن کریم کے پیش کردہ دلائل پر غور کرو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ سب کے سد۔رو چیزوں پر مرکوز ہیں۔ایک تو یہ کہ تمام عالم میں ایک طاقتور ہستی ہے۔سورج ، چاند ، تری ، نور، ظلمت کو دیکھو تمہیں معلوم ہوگا کہ ایک طاقتور ہستی ہے جو ان کے پیچھے کام کر رہی ہے۔اور دوسرے یہ کہ تم اسے نظر سے اٹھا دو تو ہر چیز میں فنا نظر آئے گی۔ایک طرف کا ئنات کا ایک ایک ذرہ بتا رہا ہے کہ کوئی طاقت موجود ہے جو اس پر حکومت کر رہی ہے