زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 364

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 364 جلد دوم وقار کا خاص خیال رکھتے ہیں لیکن ہمارے مبلغین کی اس طرف توجہ نہیں۔مبلغین کو یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے کہ غیر ملکوں میں ان کی عزت زیادہ ہوتی ہے۔مثلا تم میرے سامنے آتے ہو تو میں تمہیں تم تم کہہ کر مخاطب کرتا ہوں۔اس کے علاوہ اگر کوئی تمہارا استاد سامنے آجاتا ہے تو اس کے سامنے بھی تم اس کے شاگرد ہوتے ہو لیکن باہر تم استاد ہوتے ہو اور دوسرے لوگ تمہارے شاگرد ہوتے ہیں۔تمہیں باہر جا کر اس قسم کی ذہنیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ تم محض ” جی حضور یے“ بن کر نہ رہ جاؤ۔تم کمشنروں اور گورنروں سے بے دھڑک ملو۔یہاں تو تم ایک تحصیلدار سے بھی نہیں مل سکتے لیکن وہاں تمہاری پوزیشن اس قسم کی ہوتی ہے کہ تم بے دھڑک کمشنروں اور گورنروں سے مل سکتے ہو۔انہیں کیا پتہ ہے کہ تم کس کے شاگرد ہو۔تمہاری پوزیشن وہاں ایک سفیر کی ہوتی ہے۔تم وہاں جا کر اپنی ذہنیت کو بدل لو اور ڈر اور خوف کو اپنے پاس نہ آنے دو۔یہاں تم ماتحت ہو اور درجہ میں دوسروں سے نیچے ہو۔اگر ہماری عمر میں ایک ہزار سال کی بھی ہوں اور تمہاری عمر 900 سال کی ہو جائے تب بھی تم ما تحت ہو گے اور تمہاری گردنیں ہمارے سامنے جھکی ہوں گی۔لیکن جب تم باہر جاؤ گے تو تم ایک بڑی جماعت کے لیڈر اور نمائندہ ہو گے۔اور دوسرے لوگ تمہاری اس پوزیشن کا لحاظ رکھیں گے۔اس لئے جب تم باہر جاؤ تو کسی بڑے عہدیدار سے ڈرو نہیں۔تم ان سے مساوی رنگ میں گفتگو کرو۔تم مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کو ہی دیکھ لو۔انہوں نے گولڈ کوسٹ میں ایک مسجد بنائی اور اس موقع پر ملک کے وزیر اعظم کو بھی بلایا اور وہ آ گیا۔اور پھر وہ صرف مسجد کے احترام کی وجہ سے آ گیا۔گیسٹ آف آن کے طور پر اس قسم کے لوگ بے شک آجاتے ہیں لیکن عام مہمان کی حیثیت سے ان کا آنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن وہاں یہ حالت تھی کہ وزیر اعظم کو اس موقع پر صرف شمولیت کے لئے بلایا گیا اور وہ آ گیا۔لیکن یہاں مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کی پوزیشن ایک ماتحت کی ہے اور میرے سامنے تو ان کی پوزیشن ایک بچہ کی سی ہے اور پھر ان کے یہاں استاد بھی ہیں لیکن وہاں وہ کسی کے پاس جائیں تو وہ یہ سمجھے گا کہ ایک بڑی جماعت کا ہیڈ مشنری