زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 365

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 365 جلد دوم وو میرے پاس آیا ہے۔پس باہر جا کر تمہاری پوزیشن ایک ایمبیسیڈر کی ہوتی ہے اور تمہیں اس پوزیشن کو برقرار رکھنا چاہئے۔یہاں آؤ تو اپنے آپ کو ماتحت خیال کرو اور باہر جاؤ تو اپنے آپ کو ایمبیسیڈر خیال کرو اور اسی پوزیشن سے افسران کے ساتھ گفتگو کرو۔یہاں جو لوگ ایمبیسیڈر بن کر آتے ہیں اپنے ملک میں ان کی پوزیشن زیادہ نہیں ہوتی۔ان میں سے بعض معمولی تاجر ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے ملک کی طرف سے سفیر ہوتے ہیں اور بعض اوقات اس بات کا اقرار بھی کر لیتے ہیں۔مثلاً شامی سفیر مجھے ملا تو اس نے مجھے علیحدہ ہو کر کہا کہ میں آپ کا بہت ممنون ہوں، میں نے اپنے ملک میں آپ کا لٹریچر پڑھا تھا اور اس کا مجھ پر بڑا اثر ہے۔لیکن اب وہ یہاں سفیر بن کر آیا ہوا تھا۔تمہاری حیثیت بھی بیرونی ممالک میں سفیروں کی سی ہے اس لئے تمہیں اس بات کو بھولنا نہیں چاہئے۔پھر زبان دانی کی طرف بھی خاص توجہ کرو۔اس وقت ہمارے مبلغ جہاں بھی گئے ہیں وہاں انگریزی غالب ہے۔اگر ہمارے مبلغ انگریزی جانتے ہوں تو انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آ سکتی۔کیونکہ ہمارا کوئی مبلغ ایسا نہیں جس کی انگریزی کی بنیاد اتنی نہ ہو کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد انگریزی زبان میں اپنے مافی الضمیر کو ادا نہ کر سکے۔پس تم جہاں جہاں جاؤ انگریزی زبان کو دھڑلے سے استعمال کرو۔چاہے تم غلط سلط انگریزی بولو لیکن دھڑلے سے بولو۔اس طرح آہستہ آہستہ زبان خود بخود آ جائے گی۔یہاں جو لوگ دوسرے ممالک سے آتے ہیں انہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہ بے دھڑک انگریزی بولتے ہیں اور گرائمر کی غلطیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ جس بے تکلفی سے وہ انگریزی بولتے ہیں ہمارے گریجوایٹ بھی نہیں بول سکتے۔پس مبلغین کو چاہئے کہ وہ جو جو زبانیں جانتے ہیں انہیں وسعت دیں۔مثلاً مغربی افریقہ میں بعض شامی تاجر آباد ہیں جو عربی زبان جانتے ہیں۔اگر تم ان سے عربی زبان میں گفتگو کرنے کی عادت ڈال لو تو تمہاری زبان صاف ہو سکتی ہے۔اسی طرح انگریزی زبان بھی مغربی افریقہ میں ہر جگہ بولی اور -