زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 363
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 363 جلد دوم زیادہ ہے۔دوسرے یہ کہ ہم کس پہلو کو زیادہ آسانی سے ثابت کر سکتے ہیں۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ دو باتوں میں قومی احساس زیادہ ہو۔لیکن ایک کو ثابت کرنا مشکل ہو۔اور دوسری بات فطرت کو زیادہ اپیل کرتی ہو۔تیسرے جس مسئلہ کو بھی اختیار کرو اپنی جماعت کو مجبور کرو کہ وہ اس کی پابندی کرے۔چاہے اس کا دوسرا پہلو بھی جائز ہو۔میں نے ہاتھ باندھنے کی مثال اس لئے دی ہے کہ بعض مبلغین نے لکھا ہے کہ بعض اوقات لوگوں سے ہاتھ باندھنے پر بحث ہو جاتی ہے۔اور جب حوالے دکھا کر اپنا مسلک ثابت کیا جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں ہمارے علماء تو غلط بات پیش کر رہے ہیں۔پس اس قسم کا کوئی مسئلہ لے کر تم اس قوم کے لئے چڑ بنا دو۔اور پھر اسی مسئلہ پر بحث کرو اور ان پر ثابت کرو کہ تم جس طریق پر عمل کر رہے ہو وہ درست نہیں۔اور جب یہ بات ان پر ثابت ہو جائے تو اس مثال کو پیش کر کے تم ان سے کہو کہ علماء نے اسی طرح دوسرے مسائل میں بھی تمہیں غلط باتیں بتائی ہیں۔تم جب کوئی مسئلہ لو گے مخالف علماء اس پر زیادہ زور دیں گے اور اپنے طریق کو درست ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔اور جب اس پر کسی قوم میں زیادہ زور دیا جائے گا تو تمہارے لئے رستہ زیادہ آسان ہو جائے گا۔تم حوالے پیش کر کے قرآن کی اور حدیث اور سنت سے اپنے طریق کو ثابت کرو اور جب وہ بات ان لوگوں پر واضح ہے جائے گی تو وہ علماء کو خود بخود غلطی خوردہ خیال کرنے لگ جائیں گے۔تمہاری بات زیادہ توجہ سے سنیں گے۔پس تم افریقہ میں قوم وار چلو، گاؤں وار تبلیغ کرو اور قبائل اور جتھوں کو خطاب کرو۔پھر اگر کسی قوم میں سے کچھ لوگ تمہاری بات مان لیں اور بیعت کے لئے تیار ہو جائیں تو انہیں کہو تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انہیں تبلیغ کر کے ساتھ ملا ؤ اور پھر بیعت کرو ورنہ تمہیں ایک دو افراد کی بیعت کا کیا فائدہ۔چھوٹے چھوٹے قبائل کو بے شک علیحدہ علیحدہ بھی مخاطب کر لو میں اس سے منع نہیں کرتا۔لیکن بڑے قبائل اور بڑی اقوام کو ہمیشہ قوم وار مخاطب کرو۔ایک بات میں نے ان سے یہ بھی کہی ہے کہ دوسرے لوگ باہر جاتے ہیں تو وہ اپنے ہو