زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 362
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 362 جلد دوم جہاں جہاں ان کی قوم آباد ہو وہاں انہیں بھیجو تا کہ وہ انہیں تبلیغ کریں اور احمدیت میں داخل کریں۔پھر تم ب ج د میں سے کسی قوم کی طرف توجہ کرو اور انہیں تبلیغ کرو۔اگر ان میں سے کچھ افراد تیار ہو جائیں تو انہیں اپنی اپنی قوم کے پاس بھیجو اور انہیں تاکید کرو کہ وہ اپنی قوم کو اپنے ساتھ لائیں ورنہ ان میں سے کسی کا ذاتی طور پر احمدیت میں داخل ہو جانا زیادہ مفید نہیں ہوسکتا۔پھر ہمارے ہاں مسائل پر زیادہ بحث کی جاتی ہے لیکن ان کے ہاں مسائل کی بحث زیادہ نہیں۔کوئی ایک مسئلہ لے لو اور انہیں سمجھا دو تو وہ سب مسائل کو درست ماننے لگی جائیں گے۔یہاں تو پہلے وفات مسیح پر گھنٹوں بحث ہوتی ہے اور اس کے بعد نبوت پر بحث ہوتی ہے اور پھر صداقت مسیح موعود پر جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔پھر کفر و اسلام کا مسئلہ آجاتا ہے۔پھر حشر اجساد پر بحث شروع ہوتی ہے۔غرض جب تک ایک شخص ساری انسائیکلو پیڈیا نہ پڑھ لے وہ اٹھتا نہیں۔اس کے مقابلہ میں پہلے مسلمانوں کو دیکھ لو ان میں اس قدر مسائل کہاں تھے۔ان کے پاس صرف لا إِلهَ إِلَّا اللهُ تھا اور اس میں زیادہ بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔پس تم ان اقوام کی سٹڈی کرو اور کوئی ایک بات ایسی لے لو جس کے متعلق قومی احساس زیادہ ہو۔مثلاً اس طرف زیادہ تر مالکی آباد ہیں۔مالکی نماز میں ہماری طرح ہاتھ باندھتے نہیں ، وہ ہاتھ چھوڑتے ہیں۔تم اس مسئلہ کو لے لو اور انہیں کہو کہ رسول کریم ہے نماز میں ہاتھ باندھتے تھے اور اس امر کو احادیث اور فقہ کی کتابوں سے ثابت کرو۔جب اس قسم کی ایک روچل جائے گی تو وہ اپنا مذہب ترک کر کے اس رو کے پیچھے چل پڑیں گے۔اور جب وہ یہ سمجھ لیں گے کہ ان کے علماء اس مسئلہ میں صحیح راستہ پر نہیں تو وہ دوسرے مسائل میں بھی ان پر اعتبار کرنا ترک کر دیں گے۔یہ بات میں نے مثال کے طور پر بیان کی ہے۔ویسے تم اپنی اپنی جگہ جا کر ان لوگوں کی سٹڈی کرو اور جس بات کے متعلق تمہیں معلوم ہو کہ ان میں اس کے متعلق زیادہ احساس ہے تم اسے لے لو۔اس طریق میں کامیابی کے لئے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے۔اول یہ کہ کون سے مسئلہ میں قومی احساس عليه