زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 361

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 361 جلد دوم ساتھ لے کر آؤ۔میں نے مبلغین سے کہا ہے کہ تم بھی کسی چیف یا کسی الفا کو احمدیت کے مسائل سے روشناس کراؤ۔جب وہ احمدیت کی تعلیم کو مان لے اور کہے مجھے جماعت احمدیہ میں داخل کر لو تو اسے کہو پہلے تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور اسے ساتھ لاؤ۔جب اس کی ساری قوم احمدی ہو جائے تو اس کے لئے بھی اور تمہارے لئے بھی آسانی ہو جائے گی۔تم اگر اس قوم کے افراد کے پاس جاؤ گے تو ان میں رقابت پیدا ہو جائے گی۔لیکن اگر وہ کی چیف یا الفا جائے گا تو رقابت پیدا نہیں ہو گی۔اگر وہ اپنی قوم کے پاس جائے گا تو وہ بڑی آسانی سے اس کے ساتھ مل جائیں گے۔اگر ایک ایک چیف کے ماتحت ہیں میں گاؤں بھی ہوں اور ہم یہ طریق اختیار کریں تو بڑی آسانی سے سال بھر میں لاکھوں آدمی احمدیت میں داخل ہو سکتے ہیں۔اب تک تو جہاں بھی ہمارا مبلغ گیا ہے وہ غرباء کے پاس جاتا ہے اور انہیں تبلیغ کرتا ہے مگر اب تم نے یہ نقطۂ نظر بدل کر جانا ہے اور تم نے کسی فرد کو تبلیغ نہیں کرنی۔تمہیں قوم کے لیڈروں اور علماء کے پاس جانا چاہئے اور جب وہ احمدیت کی سچائی کا اقرار کر لیں تو انہیں اپنی اپنی قوم کے پاس بھیجو تا کہ وہ ساری قوم کو اپنے ساتھ لے کر آئیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کا شاہد لنے میں کچھ وقت ہوتی ہے لیکن اگر اس بات کی اہمیت کا احساس ہو جائے تو یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔تم کسی ذمہ دار شخص کو پکڑو اور اسے تبلیغ کرو۔پھر ا سے اس م کے پاس بھیجو اور کہو تمہارے اکیلے آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔پہلے تم اپنی قوم کو ساتھ لاؤ۔اس طرح تمہیں بھی آسانی رہے گی اور ہماری مشکلات میں بھی کمی ہو جائے گی۔پس میں ایک تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم ایسا طریق تبلیغ اختیار کرو کہ افریقہ میں لوگ قوم وار احمدیت میں داخل ہوں۔اور تم لوگوں سے خطاب بھی قوم وار کرو۔اب تو تمدن میں زیادہ ترقی ہو گئی ہے لیکن بہر حال ایک ایک گاؤں میں کئی کئی قومیں آباد ہوتی ہیں۔فرض کرو تم ایک گاؤں میں جاتے ہو اور وہاں ایک قوم آباد ہے۔اور اس کے علاوہ وہاں ب ج اور دقو میں بھی آباد ہیں۔تمہیں معلوم ہوا ہے کہ (والے احمدیت میں داخل ہونے کے لئے تیار ہیں تو تم ان سے دریافت کرو کہ تمہاری قوم کہاں کہاں آباد ہے۔اور پھر