زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 360

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 360 جلد دوم اس وقت سترہ اٹھارہ ہزار احمدی ہیں۔لیکن پرانے مبلغ مولوی نذیر احمد علی صاحب کو اس بات پر اصرار تھا کہ گولڈ کوسٹ میں چھپیں ہزار احمدی موجود ہیں۔کوئی الفا ( وہاں الفا عالم کو کہتے ہیں ) یا رئیس احمدیت میں داخل ہو گیا تو اس کے ساتھ اس کی ساری قوم احمدیت میں داخل ہو گئی۔اسی طرح جب نیر صاحب نائیجیر یا گئے تو لیگوس میں جاتے ہی چار ہزار آدمی ایک ہی دن میں احمدیت میں داخل ہو گئے۔چونکہ افریقہ میں ابھی قبائلی سٹم پایا جاتا ہے اس لئے وہاں چیف زیادہ بااثر ہوتے ہیں۔اگر یہ چیف جماعت میں داخل ہوتی جائیں تو ان کے ذریعہ دوسرے لوگ بھی احمدیت کو قبول کر لیں گے۔اس وقت دو چیف احمدی ہو چکے ہیں لیکن ان کا احمدیت کو قبول کر لینا اتفاقی امر ہے۔کسی خاص سکیم کے ماتحت انہیں احمدیت کی طرف نہیں لایا گیا۔لیکن اب مبلغین کو ایک سکیم کے ماتحت چیفس اور با اثر لوگوں کو احمدیت کی طرف لانا چاہئے۔ملاقات کے موقع پر میں نے انہیں کہا تھا کہ ہمارے پھیلنے کی یہی صورت ہے کہ ہمارے پاس جتھا ہو۔اگر نائیجیریا، گولڈ کوسٹ اور سیرالیون ہمارے پاس آجائیں اور ان کی اکثریت احمدیت قبول کر لے تو سب لوگ کہیں گے کہ یہ جماعت رد کرنے کے قابل نہیں۔فلاں ملک کے سب لوگ اس میں شامل ہیں۔اور جب وہ یہ خیال کریں گے کہ ہماری جماعت رد کرنے کے قابل نہیں فلاں ملک میں سب لوگ اس میں شامل ہیں تو سچائی ان کی سمجھ میں آجائے گی۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر ایک ملک کے لوگ بھی احمدی ہو جائیں تو دوسرے لوگوں کو فوراً ہماری طرف توجہ ہو جائے گی اور وہ سمجھیں گے کہ ہم حقیر نہیں۔اگر ایسا ہو جائے تو لازما ہماری جماعت دنیا میں پھیل جائے گی۔میں نے مبلغین کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے طریق تبلیغ کو بدلیں۔ہمارا پہلا طریق تبلیغ انفرادی رہا ہے اور انفرادی طریق تبلیغ سے کامیابی نہیں ہوسکتی۔احادیث میں کئی جگہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس کوئی شخص آیا اور اس نے کہا میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے پہلے تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور اسے سمجھاؤ اور قوم کے لوگوں کو الله