زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 359
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 359 جلد دوم۔لیکن خاوند احمدی نہیں ہوا۔اور بعض اوقات یہ بات نہیں ہیں سال تک چلی گئی ہے کہ گھر کا ایک فرد احمدی ہو گیا لیکن دوسرے افراد احمدی نہیں ہوئے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر شخص یہ سجھتا ہے کہ میں کسی کے پیچھے کیوں چلوں۔میں اپنا نفع نقصان خود سمجھ سکتا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کے لوگ دوسروں سے جلد ایمان لے آتے ہیں لیکن ان کے لئے انفرادی جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔اور جو قو میں جاہل ہیں اور ان میں ظاہری علم کی کمی ہے ان میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ ہر بات پر خود غور نہیں کرتیں بلکہ اپنے لیڈر کے پیچھے چلتی ہیں۔ان کے افراد سمجھتے ہیں کہ ہم میں خود سوچنے اور غور کرنے کی اہلیت نہیں اور نہ اتنی عقل ہے کہ خود سوچیں اور فکر کریں۔چنانچہ وہ اپنے چودھری کی بات مان لیتے ہیں۔جدھر وہ جاتا ہے ادھر قوم کے سب افراد جاتے ہیں۔اس وقت اس قسم کی قومیت دنیا میں سوائے افریقہ کے اور کہیں نہیں پائی جاتی۔یورپ میں تو باپ بیٹے کی بات نہیں مانتا اور بیٹا باپ کی بات نہیں مانتا۔اور یہاں بھی یہی کیفیت ہے۔بے شک بعض اوقات احمدی ہونے والوں کو تنگ بھی کیا جاتا ہے لیکن اکثر اوقات یہ سمجھ کر کہ مذہب کے لحاظ سے ہر شخص آزاد ہے وہ جو مذہب چاہے اختیار کر سکتا ہے، اسے تنگ نہیں کیا جاتا۔یہی حال امریکہ اور دوسرے ممالک عرب، مصر، انڈونیشیا، ایران اور عراق وغیرہ کا ہے۔ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنے متعلق وہ خود فیصلہ کرے گا۔صرف فلسطین میں کہا بیر کے مقام پر ایسا ہوا کہ ایک شخص نے احمدیت کو قبول کر لیا تو اس کی وجہ سے پچاس ساٹھ اور آدمی بھی احمدیت میں داخل ہو گئے۔لیکن افریقہ میں چونکہ تعلیم کم ہے اس لئے وہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے ساتھ ہزار دو ہزار آدمی احمدیت میں داخل ہو جائیں۔اگر اس قسم کے دس ہیں آدمیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے تو سال میں بڑی آسانی سے لاکھ دو لاکھ آدمی احمدیت میں داخل ہو سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے افریقہ میں دوسرے ممالک کی نسبت کم عرصہ میں اور کم کوشش کے نتیجہ میں جماعت کو زیادہ ترقی ہوئی۔گولڈ کوسٹ (مغربی افریقہ ) میں ایک وقت میں پچیس ہزار احمدی تھے۔موجودہ مبلغ اس بات کو نہیں مانتے۔وہ کہتے ہیں کہ