زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 352
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 352 جلد دوم کم حصہ میری سمجھ میں آیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کی بیک گراونڈ (background) خود ہی سمجھتے تھے۔حالانکہ میں نے سنا ہے کہ ان کی بعض باتیں نہایت معقول ہیں اور میرا خیال تھا کہ اگر وہ اس مضمون پر کوئی کتاب لکھیں تو وہ مقبول ہو سکتی ہے۔لیکن جس شکل میں انہوں نے وہ مضمون لکھا ہے کم از کم میں اسے سمجھ نہیں سکا۔اس کی عبارت واضح نہیں اور ترتیب ٹوٹی ہوئی ہے اور اس سے اچھی سے اچھی کتاب خراب ہو جاتی ہے۔ایک معمولی سی بات کو بھی عمدگی سے بیان کیا جائے تو یوں معلوم ہو گا جیسے کسی نے علم کے دریا بہا دیئے۔اور اگر ایک اچھی بات کو بھی عمدگی سے بیان نہ کیا جائے تو وہ خراب ہو جاتی ہے۔حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی پہلے پیغامی تھے۔ان کے والد مخلص مبائع تھے اور ان کی دعاؤں کی وجہ سے حکیم صاحب نے بھی بیعت کر لی ہے۔جب وہ پیغامی تھے تب بھی ان میں یہ خوبی تھی کہ انہیں مجھ سے انس رہا۔حالانکہ پیغامیوں کو سب سے زیادہ میری ذات سے دشمنی ہے۔میں جہاں کہیں تقریر کے لئے جاتا وہ وہاں آ جاتے تھے۔چنانچہ میں ایک دفعہ فیروز پور گیا تو یہ بھی وہاں آگئے۔مولوی عبد القادر صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے وہ بھی وہاں موجود تھے۔مولوی صاحب کی قوت بیانیہ کمزور تھی۔حکیم مرہم عیسی صاحب نے مجھ پر نبوت کے متعلق سوالات کرنے شروع کئے۔چونکہ میں ان کی طبیعت جانتا تھا کہ وہ اکثر کج بحثی کرتے ہیں اس لئے میں نے کہا مولوی صاحب بیٹھے ہیں آپ ان سے بات کریں۔چنانچہ مولوی عبد القادر صاحب نے ایک دلیل پیش کی۔اس پر حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی نے اعتراض کیا۔انہوں نے ایک اور دلیل پیش کی۔حکیم صاحب نے پھر اعتراض کیا۔انہوں نے پھر ایک اور دلیل پیش کی لیکن حکیم صاحب نے پھر اعتراض کیا۔پھر ایک اور دلیل پیش کی لیکن حکیم صاحب نے پھر اعتراض کیا۔تو مولوی صاحب نے ایک قہقہہ مارا اور کہا کہ تو بڑا چالاک ہے۔تو ہر بات کو رد کر دیتا ہے۔میں نے مولوی صاحب سے کہا آپ تو ہر میدان میں خود شکست تسلیم کر لیتے ہیں۔اس پر وہ آپ ہی ایک قصہ سنانے لگے اور کہنے لگے کہ مجھے دراصل