زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 353
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 353 جلد دوم بات کرنی نہیں آتی۔انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا۔اُن دنوں ازالہ اوہام چھپ چکی تھی۔اس نے مجھے کہا کہ وفات مسیح کی ایک دلیل پیش کرو۔میں نے کہا حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات 30 آیات قرآنیہ سے ثابت ہوتی ہے۔اس نے کہا ایک دلیل بتاؤ۔میں نے ایک دلیل پیش کی تو اس نے اس پر اعتراض کیا۔میں نے ایک اور دلیل پیش کی اس نے پھر اعتراض کیا۔پھر تیسری دلیل پیش کی لیکن اس نے پھر اعتراض کیا۔اسی طرح میں دلیلیں پیش کرتا جاتا تھا اور وہ اعتراض کرتا جاتا تھا۔یہاں تک کہ تمھیں کی تھیں آیات ختم ہو گئیں۔غرض بولنے کا بھی طریق ہوتا ہے۔مضمون ایسے رنگ میں بیان کرو کہ پڑھنے والا اسے سمجھ سکے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے بطنی عنوان مقرر کئے جائیں۔پھر ماہرین کی ایک کمیٹی اس پر غور کرے اور اس کی ترتیب بھی بتائے۔پھر لٹریچر بھی بنایا جائے کہ کون کون سی کتابوں میں یہ مضمون مل سکتا ہے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مضمون ہوتا ہے قرآن پر اور نکلتا ہے کسی جغرافیہ کی کتاب میں سے کوئی مضمون تھا جواب مجھے یاد نہیں رہا مجھے اس کے متعلق حوالے کی تلاش تھی لیکن حوالہ ملتا نہیں تھا۔پرسوں میں کوئی سفر نامہ یا کوئی اور معمولی سی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس میں سے وہ حوالہ نکل آیا۔وہ حوالہ میرے ذہن میں تھا لیکن اب پھر بھول چکا ہوں۔غرض مطالعہ کرنے ولا شخص بتا سکتا ہے کہ فلاں مضمون کن کن کتب میں ہے۔اس سے ہمارا اگلا قدم مضبوط ہو جائے گا اور آئندہ آنے والوں کو واقفیت ہو جائے گی۔ورنہ یہ لوگ ایک دوکتا ہیں دیکھ کر تھیسس لکھ دیں گے اور خیال کریں گے کہ ہم نے بہت اچھی کتابیں لکھ دی ہیں۔لیکن جن لوگوں کے پاس وہ کتابیں جائیں گی ان کے لئے وہ عمدہ کتابیں نہیں ہوں گی۔ہم یورپین مصنفین کو دیکھتے ہیں کہ مضمون خواہ کتنا پامال ہو وہ جب اسے بیان کریں گے تو ی اس میں ایک نہ ایک بات ضرور نئی ہوگی۔اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے کتابیں اتنے کے مطالعہ کے بعد لکھی ہوئی ہوتی ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی نہ کوئی نئی بات مل جاتی ہے۔مثلاً اس فرقان میں میں نے ایک لڑکے کا مضمون پڑھا۔وہ شاید انٹرنس پاس ہے لیکن جب بھی میں اس کا