زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 351

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 351 جلد دوم اور میں نے اس کے متعلق ایک ہدایت بھی بھجوائی تھی۔انہوں نے یو نیورسٹیوں میں جو طریق رائج ہے اس کی نقل کی ہے۔لیکن وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک لمبے عرصہ میں ترقی کر کے بعض روایات مقرر کر لی ہیں جن کی وجہ سے طلباء کو تھیسس لکھنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔لیکن یہاں طلباء کو جو مضامین دیئے گئے ہیں ان کے متعلق جو کتا ہیں لکھی گئی ہیں وہ یہاں نہیں مل سکتیں۔اور پھر اساتذہ کو بھی علم نہیں کہ یہ مضمون کون کون سی کتابوں میں مل سکتا ہے۔ہمارے اساتذہ نے یہ کتابیں پہلے سال پڑھائی ہیں۔اگر وہ پانچ چھ سال تک اور یہ کتابیں پڑھائیں تو ان کا علم موجودہ علم سے بہت زیادہ ہو گا اور وہ ان کتابوں کو زیادہ آسانی سے حل کر لیں گے بشرطیکہ وہ پڑھیں۔پھر یو نیورسٹی میں کئی ہزار طلباء ہوتے ہیں جن میں سے صرف پچاس کے قریب ایسے طلباء ہوتے ہیں جو تھیسس لکھتے ہیں لیکن چھپتا تو ایک بھی نہیں۔پھر آکسفورڈ اور کیمبرج میں بھی تھیسس بہت کم چھپتے ہیں کیونکہ وہ اس غرض کو پورا نہیں کرتے جو لوگ چاہتے ہیں۔لیکن چونکہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہمارا لٹریچر زیادہ ہو۔تا ہماری اگلی نسلیں اس سے فائدہ اٹھائیں اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کے سے فائدہ ہو اس لئے اس میں کوئی فائدہ نہیں کہ طلباء تھیسس لکھیں اور اساتذہ نگرانی کریں۔میرے نزدیک اس کا طریق یوں ہونا چاہیئے تھا کہ وہ طلباء کو تھیسس دے کر بتاتے کہ وہ اس کے بطنی عنوان لکھیں۔اور جب وہ بطنی عنوان لکھ کر لے آتے تو پانچ سات ماہرین بیٹھتے اور ان پر غور کر کے بتاتے کہ یہ بطنی عنوان تشنہ تکمیل ہیں۔ان میں فلاں فلاں عنوان بھی شامل ہونا چاہئے۔اور بحث کے بعد وہ بتاتے کہ ان کی ترتیب کیا ہونی چاہئے۔بظاہر ایک آدھ غلطی ہوتی ہے لیکن اس ایک آدھ غلطی کی وجہ سے بڑی بڑی کتابیں خراب ہو جاتی ہیں۔پچھلے ماہ خارش کی وجہ سے میں ایک رات جاگتا رہا۔میں نے کہا چلو کسی کتاب کا مطالعہ ہی کر لوں۔چنانچہ میں نے "فرقان" رسالہ اٹھایا۔اس میں شیخ محمد احمد صاحب وکیل کا ایک مضمون تھا۔میں نے اس مضمون کا مطالعہ کیا لیکن سارے مضمون میں سے بہت