زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 350

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 350 جلد دوم وہ اپنی آواز بلند کرے اور الفاظ بھی جوش سے ادا کرے۔لیکن اگر وہ شروع میں ہی جلدی جلدی بولنے لگ جاتا ہے تو سامعین تاڑ جاتے ہیں کہ وہ ان سے ڈر رہا ہے اس لئے وہ اس کا اثر قبول نہیں کرتے۔ایک اور بات جس کی میں کمی محسوس کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے طلباء مطالعہ کے لئے بہت کم وقت نکالتے ہیں۔اپنے وقت میں سے ہمیشہ ایک حصہ زائد مطالعہ کے لئے بھی نکالنا چاہئے۔ہمارا اندازہ ہے کہ ایک اچھا پڑھنے والا ایک گھنٹہ میں اوسطاً 30 صفحے پڑھتا ہے۔عربی ٹائپ ذرا چھوٹا ہوتا ہے اور کتاب کے صفحات بڑے ہوتے ہیں اس لئے اگر آپ لوگ زائد مطالعہ کے لئے ایک گھنٹہ روزانہ بھی دیں تو اوسطاً دس پندرہ صفحات فی گھنٹہ پڑھے جا سکتے ہیں۔اگر آپ ایک گھنٹہ روزانہ زائد مطالعہ کے لئے مقرر کر لیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ آپ ایک ماہ میں تین چار سو صفحات کا مطالعہ کر لیں گے۔گویا ایک سال میں آپ امام رازی کی تفسیر کبیر ختم کر لیں گے۔اور یہ اس صورت میں ہے کہ آپ ایک گھنٹہ روزانہ مطالعہ کے لئے دیں ورنہ دو اڑھائی گھنٹے بھی روزانہ مطالعہ کے لئے دیئے جا سکتے ہیں۔اسی لئے میں نے عربی کتابیں منگوا کر دی ہیں جن میں علم ادب ، علم تاریخ، فلسفہ، منطق ، صرف و نحو، علم معانی اور دوسرے علوم پر لکھی ہوئی کتا بیں موجود ہیں۔اور یہ کتب میں نے اس لئے منگوائی ہیں کہ طلباء انہیں پڑھیں اور ان کے علم میں اضافہ ہو۔میرا منشاء یہی ہے کہ ایک دو سال میں دس پندرہ ہزار روپیہ صرف کر کے ایک لائبریری بنائی جائے جو کالج کے لحاظ سے مکمل لائبریری ہو۔چنانچہ اس سلسلے میں میں نے انگریزی کی بعض کتابیں بھی منگوا کر دی ہیں۔یہ کتابیں مختلف علوم کے متعلق ہیں۔یورپین لوگوں میں سے بعض نے ہر علم کو ہر زبان میں لکھا ہے تا کہ جس زبان میں کوئی سیکھ سکے وہ علم سیکھ لے۔اور تمام علوم کے متعلق جن میں سے بعض کا تمہیں علم بھی نہیں یورپین لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں اور میں یہ کتابیں جمع کر رہا ہوں تا کہ تم دوسری زبانوں کا بھی مطالعہ کر سکو۔طلباء جو تھیسس (Thesis) لکھ رہے ہیں میرے نزدیک ان میں ایک غلطی ہے