زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 333

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 333 جلد دوم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا کے غلط معنے لے لئے اسی طرح مسلمان مفسرین نے بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کو نہ سمجھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی یہی کہا کہ خدایا! تو مجھے وہ ملک دے جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہ ملا ہو۔اس کا بھی یہی مطلب تھا کہ پہلی تعلیمیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئیں ان پر کچھ عرصہ تک تو لوگوں نے عمل کیا مگر آخر لوگوں میں خرابیاں پیدا ہو گئیں اور وہ اس تعلیم کو بھول گئے۔اب خدایا ! میرا دل یہ کی چاہتا ہے کہ تو مجھے وہ بادشاہت بخش اور مجھے وہ سلسلہ عطا فرما جس میں کبھی کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔یہ بات کہ حضرت سلیمان نے ایک چیز مانگی اور انہیں نہ ملی یا یہ بات کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک چیز مانگی اور انہیں نہ ملی یہ اور بات ہے۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ جذ بہ کتنا بلند تھا۔یہ خواہش کتنی اچھی تھی۔یہ آرزو کتنی پاکیزہ تھی۔دنیا میں اگر کسی شخص کو یہ چیز کسی رنگ میں ملی ہے تو وہ صرف رسول کریم ﷺ کا وجود ہے۔آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ آپ کی شریعت کبھی تبدیل نہیں ہوگی اور آپ کی تعلیم کو بدلنے کی کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا۔گو ایک دوسرے رنگ میں خرابی بھی پیدا ہو گئی ہے یعنی تعلیم تو قائم رہی اور سلسلہ بھی اپنی ذات میں قائم رہا مگر زمانہ کے افراد میں خرابی پیدا ہوگئی۔بہر حال وہ چیز جو کسی نبی کو پہلے نہیں ملی وہ اس رنگ میں صرف رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔اور پھر آپ کے لئے ہی اس نے یہ اصول مقرر کر دیا کہ جب بھی آپ کی امت میں خرابی پیدا ہوگی اللہ تعالیٰ آپ کی امت میں سے ہی ایسے افراد کو کھڑا کرے گا جو پھر دنیا کو صداقت اور ایمان کی طرف کھینچ لانے میں کامیاب ہوں گے۔لیکن مسلمانوں کی بدبختی کہ وہ چیز جو محمد رسول اللہ ﷺ کو باقی تمام انبیاء سے ممتاز کرنے والی تھی اس کا انہوں نے انکار کر دیا۔بلکہ اس خوبی کو تسلیم کرنے والوں کو انہوں نے کافر قرار دیا۔حالانکہ محض کسی کا نام قائم رہنا کوئی بڑی بات نہیں۔آج دنیا میں حضرت عیسی علیہ السلام کا نام قائم ہے مگر کیا محض ان کے نام کے قائم ہونے سے ان کی بادشاہت بھی دنیا میں قائم ہے؟ آج دنیا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام قائم ہے۔کیا یہودی یہ نہیں کہتے کہ موسیٰ