زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 334
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 334 جلد دوم کی حکومت اب بھی قائم ہے؟ مگر کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حکومت کا کوئی نشان دنیا میں پایا جاتا ہے؟ رام چندر اور کرشن کا نام دنیا میں قائم ہے۔کیا ہندو یہ نہیں کہتے کہ ہم رام اور کرشن کی حکومت دنیا میں قائم کریں گے ؟ مگر کیا رائم اور کرشن کی حکومت واقعہ میں دنیا میں قائم ہے؟ اسی طرح اگر مسلمان بھی یہ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ علیہ کی حکومت قائم ہے کیونکہ آپ کا نام قائم ہے تو اس سے آپ کی باقی انبیاء پر کیا فضیلت ہوئی ؟ فضیلت تو وہی ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کرامت گرچه بے نام و نشاں است بیا بنگر ز غلمان حکومت کی علامت یہی ہوتی ہے کہ جب اس کے ذمہ دار افسران پر یا اس کے قائم کردہ نظام پر کوئی شخص حملہ کرتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے۔قید خانے پر اگر لوگ حملہ کر دیں اور قیدیوں کو چھڑانے لگیں تو فوراً پولیس اور فوج آجاتی ہے۔کچہریوں پر حملہ کر دیا جاتا ہے تو فوج لوگوں کے مقابلہ کے لئے آ جاتی ہے۔اسی طرح اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی روحانی زندگی کا سلسلہ قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔جب بھی کوئی قوم یا کوئی فرد اسلام پر حملہ آور ہوگا بیا بنگر ز غلمان محمد کے مطابق محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں میں سے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کوئی شخص اس کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جائے گا اور دشمن کو اس کے ارادوں میں ناکام بنا دے گا۔یہی ایک زندہ حکومت کی علامت ہوتی ہے۔حکومت اپنے محکموں کی حفاظت کے لئے فوراً پہنچ جاتی ہے۔اور اگر کوئی حکومت اپنے محکموں کی حفاظت کے لئے نہیں پہنچ سکتی تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ حکومت مرچکی ہے۔تم یونان کے پرانے کھنڈرات بڑی آسانی سے گرا سکتے ہو۔تم سکندراعظم کے پرانے کھنڈرات کو تو توڑ پھوڑ سکتے ہولیکن تم دس میں ہزار کی