زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 332
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 332 جلد دوم آجائے گا۔دوسرا مارا جائے گا تو تیسرا آ جائے گا۔غرض جب تک خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں رہتی ہے خدا تعالیٰ کی بادشاہت کی خدمت کرنے والوں کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔اگر وہ مر جاتے ہیں یا کسی اور مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو ان کی جگہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو کھڑا کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے جنگ میں سپاہی مرتے ہیں تو ان کی جگہ اور سپاہی آ جاتے ہیں۔وہ مرتے ہیں تو اور سپاہی آ جاتے ہیں۔پس موت آدمیوں سے نہیں ہوتی۔موت خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے دنیا میں نہ ہونے سے ہوتی ہے۔جب حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ کہا کہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی آئے 4 تو ان کے حواریوں نے بھی بوجہ اس کے کہ انہیں وہ صلى الله عرفان حاصل نہیں تھا جو رسول کریم ﷺ کی وجہ سے ہمیں حاصل ہے اس فقرہ کے غلط معنے لے لئے ورنہ در حقیقت مسیح نے جو کچھ کہا اس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ سلسلہ اور وہ سچائی جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے وہ آسمان کی طرح ہوتی ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ آسمان پر تاریکی پیدا ہوئی ہو یا یہ کہا گیا ہو کہ اب کسی نئے جبرائیل کی ضرورت ہے، اب نئے اسرافیل کی ضرورت ہے ، اب فرشتے بوڑھے ہو گئے ہیں ، اب وہ کمر در اور نا طاقت ہو چکے ہیں ، اب ہمیں ان کے قائم مقام پیدا کرنے چاہئیں۔آج بھی وہی جبرائیل ، وہی اسرافیل اور میکائیل ہیں جو آدم کے وقت تھے کیونکہ وہاں خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم رہے اس کے تسلسل میں کوئی وقفہ نہیں ہو سکتا۔مسیح نے یہی کہا کہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی آئے۔یعنی میرے ماننے والوں اور میرے متبعین کو تو توفیق عطا فرما کہ وہ ہمیشہ ہمیش بغیر کسی وقفہ کے تیری بادشاہت کو دنیا میں پھیلاتے چلے جائیں اور تیری بڑائی اور جلال اور جبروت کا اظہار کرتے جائیں۔یہ کتنا اچھا جذبہ تھا اور کتنی پاک تعلیم تھی جس کے غلط معنے لے لئے گئے۔یہی وہ چیز ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی مانگی۔مگر جس طرح عیسائیوں