زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 305

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 305 جلد دوم کر چھٹی حاصل کرلی ہے کہ کمیونزم عین اسلام ہے۔انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اسلام زندہ رہتا ہے یا مرتا ہے وہ صرف اپنی جان بچانا چاہتے ہیں اور اپنی جان کے بچاؤ کا طریق انہوں نے یہی سوچ رکھا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کمیونزم اور اسلام دونوں ایک ہی چیز ہیں۔گویا ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے ہندوؤں نے پہلے بدھ مذہب کی شدید مخالفت کی مگر آخر میں آکر کہہ دیا کہ بدھ ہمارا ساتواں اوتار تھا۔اسی طرح بعض مسلمانوں نے پہلے تو کچھ کمیونزم کا مقابلہ کیا مگر آخر تنگ آکر کہہ دیا کہ کمیونزم عین اسلام ہے۔مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کمیونزم کو بھی اسلام کے خلاف ثابت کریں اور پھر لوگوں کو یہ بھی بتائیں کہ اسلام دنیا کی بھوک کا کیا علاج کرتا ہے۔روٹی کا سوال اس وقت ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے اور اس سوال پر تم بھی کئی بار بخشیں کرتے ہو۔آخر تم کہتے ہو یا نہیں کہ ہمیں کیا گزارہ ملے گا ؟ ہمارے بیوی بچوں کو کیا ملے گا؟ ہم باہر گئے تو ہمیں کتنا روپیہ بھجوایا جائے گا اور ہمارے بیوی بچوں کو کتنا دیا جائے گا ؟ یہ سوالات اگر تمہارے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں تو اور لوگ ان پر کیوں بحث نہ کریں۔مگر ہمارے علماء کا ایک طبقہ ان باتوں سے غافل ہے۔وہ ضرورت ہی نہیں سمجھتا کہ اس بات پر غور کرے کہ کمیونزم کے خطرہ کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے اور کس طرح اسلام پر قائم رہتے ہوئے اس کو رد کیا جا سکتا ہے۔اور لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر کمیونزم ہم میں آ بھی گیا تو کیا ہوا ہم خدا اور اس کے رسول کو مانتے ہوئے کمیونسٹ ہو جائیں گے۔مذہب اس میں روک ہی نہیں۔وہ کبھی خیال ہی نہیں کرتے کہ بعض روئیں لازمی طور پر دوسرے خیالات کو رد کر دیتی ہیں اور سٹالن کے پیچھے اُسی وقت چل سکتے ہیں جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر دیں۔بے شک وہ کہتے ہیں کہ ہم باخدا کمیونسٹ ہو جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ کیا با خدا کمیونسٹ ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں ہوسکتا تو وہ ہوں گے کس طرح؟ یہ تو ویسی ہی احمقانہ بات ہے جیسے ملکہ فرانس کا قصہ مشہور ہے کہ وہ ایک دفعہ تو شکار سے واپس آ رہی تھی کہ اس نے دیکھا کہ اس کے قلعہ کے پاس ہزاروں ہزار لوگ جمع