زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 306

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 306 جلد دوم ہیں اور وہ روٹی روٹی" کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔اس نے اپنے ماتحت افسران سے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں جمع ہیں اور روٹی روٹی کیا نعرہ لگا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کھانے کو کچھ نہیں ملتا، ہمارے ملک میں قحط پڑا ہوا ہے ہمیں روٹی دی جائے تا کہ ہمارا پیٹ بھرے۔اس پر وہ بے ساختہ کہنے لگی یہ لوگ بڑے بے وقوف ہیں اگر بھوکے ہیں تو کیک کیوں نہیں کھا لیتے۔چونکہ اس کے اپنے گھر میں ہر چیز کی فراوانی تھی وہ یہ بجھتی تھی کہ اتنی چیزیں تو ہر شخص کے گھر میں موجود ہوں گی۔یہی احمقانہ حالت بعض مسلمانوں کی ہے۔وہ کہتے ہیں ہم باخدا کمیونسٹ ہو جائیں گے۔وہ احمق اتنا بھی نہیں جانتے کہ بعض افکار میں خدا تعالیٰ کا خیال پنپ سکتا ہے اور بعض میں نہیں پنپ سکتا۔جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم پتھر پر گندم ہونا چاہو تو نہیں ہو سکتے۔پس یہ کہنا کہ ہم متضاد افکار کو جمع کر لیں گے یہ بالکل غلط ہے۔یہ چیزیں ہیں جو اسلام کی کامیابی کے راستہ میں زیادہ سے زیادہ روکیں پیدا کر رہی ہیں۔یورپ کا آدمی اپنے ہتھیار پھینک کر اس کا مقابلہ کر سکتا ہے، امریکہ اپنی جگہ بدل کر کمیونزم کا مقابلہ کر سکتا ہے ، انگلینڈ اپنی جگہ بدل کر کمیونزم کا مقابلہ کر سکتا ہے کیونکہ ان کی جگہ معین نہیں لیکن ایک مسلمان ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی جگہ معین ہے اور اسلام نے اس کے لئے ایک حد مقرر کر دی ہے جس سے وہ ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتا۔ایک انگریز یا ایک امریکن کمیونزم کے دباؤ کے ماتحت اپنی جگہ سے کتنا بھی ہل جائے میرے لئے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر ہونا جائز نہیں کیونکہ میرے لئے اسلام نے ایک حد مقرر کر دی ہے۔وہ کہتا ہے تم ایک انچ بھی اِدھر ہوئے تب بھی کافر ہو جاؤ گے اور ایک انچ اُدھر ہوئے تب بھی کافر ہو جاؤ گے۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کو بھی قائم رکھیں اور کمیونزم کے خطرہ کو بھی دور کرنے کی کی کوشش کریں۔اور یہ چیزیں ایسی ہیں جن پر نئے زاویہ نگاہ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے نئے افکار اور نئی جدو جہد کی ضرورت ہے۔اگر ہم اس غرض کے لئے اپنی کوششوں کو صرف نہیں کریں گے تو گو اسلام کی فتح پھر بھی یقینی ہے مگر ہماری شکست میں