زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 304

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 304 جلد دوم اب زمانہ بدل چکا ہے، خیالات تبدیل ہو چکے ہیں ، نئی پود نئے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کی عادی ہے، وہ نئے انداز اور نئے پہلوؤں سے مسائل پر غور و فکر کرتی ہے مگر ہمارے بعض علماء ابھی تک ضَرَبَ يَضْرِبُ کی گردانوں میں ہی پھنسے ہوئے ہیں اور وہ مسائل جن کو آج دنیا سننے کے لئے بھی تیار نہیں اُنہی کو بار بار پیش کرنے کے عادی ہیں۔ہمارے علماء اٹھیں گے اور وفات مسیح کا مسئلہ پیش کر دیں گے حالانکہ ان کا مخاطب بعض دفعہ ایسا شخص ہے جو مسیح کو نبی بھی نہیں مانتا۔ہمارا مبلغ کہتا ہے عیسی" مر گیا اور وہ کہتا ہے کہ میں تو اُسے نبی بھی نہیں مانتا تم مجھے کیا کہ رہے ہو۔وہ حیران ہوتا ہے کہ میں کیا پوچھتا ہوں اور یہ کیا کہتا ہے۔وہ سوال کرتا ہے کہ تم نے میری مادی ترقی کے لئے کیا کیا ہے میں چاہتا ہوں کہ میں ویسا ہی معزز بن جاؤں جیسے ایک امریکن معزز ہے یا ایک فرانسیسی معزز ہے اور یہ میری امنگیں ہیں۔تم مجھے بتاؤ کہ تم نے مجھے ایک امریکن یا ایک انگریز جیسا معزز اور طاقتور بنانے کیلئے کیا کیا ہے۔جب تک ہم اُس کے اس زاویہ نگاہ کو غلط ثابت نہ کر دیں، جب تک ہم اس کے خیالات کی روکو اور طرف نہ پھیر دیں اُس وقت تک ہمارا صرف وفات مسیح" اور ختم نبوت کی بخشیں کرنا بالکل فضول ہے۔لیکن اگر ہمارا عالم ان باتوں کو جانتا ہی نہیں تو وہ ان سوالات کو سن کر زیادہ سے زیادہ یہی کہہ دے گا کہ لا حول وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کیسے بیہودہ خیالات ہیں مگر ان خیالات کی اصلاح اور درستی کے لئے وہ کوئی کوشش کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اُس نے ان باتوں پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔اسی طرح موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ شور اقتصادی مشکلات کی وجہ سے برپا ہے۔لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی بھوک دور ہو، اُن کی غربت دور ہو، اُن کے اقتصادی حالات اچھے ہوں اور وہ بھی دنیا میں باعزت زندگی بسر کرنے کے قابل ہوں اور چونکہ ان کے کانوں میں بار بار ڈالا جاتا ہے کہ کمیونزم ہی دنیا کی بھوک کا علاج ہے اس لئے وہ کی بھی کمیونزم کا شکار ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہی ہمارے دکھوں کا علاج ہو۔اس فتنہ کا مقابلہ کرنا اس وقت ہماری جماعت کا اہم ترین فرض ہے۔کچھ مسلمانوں نے تو یہ کہہ