زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 299

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 299 جلد دوم پکڑ لی اور کہنے لگی کمبخت ! کھانا تو تو منہ سے کھاتا ہے تیری داڑھی کیوں ہلتی ہے۔پس مخالفت کا بہانہ بنانا کوئی مشکل چیز نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے تو لوگوں نے اور بہانہ بنا لیا۔حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو لوگوں نے اور بہانہ (بنا) لیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا تلوار چلا ؤ تو لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ نبی کیسا ہے یہ تو لڑائی کی تعلیم دیتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے 2 اس پر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ بھی کوئی تعلیم ہے کیا اس طرح دنیا میں گزارہ ہو سکتا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ نے فرمایا کہ موقع محل کے مطابق کبھی سختی کرو اور کبھی نرمی۔اس پر لوگوں نے کہا یہ تو دونوں مذہبوں سے گیا۔یہ نہ مونٹی کے راستہ پر ہے اور نہ عیسی کے راستہ پر۔اس کی تعلیم ہم کیوں مانیں۔غرض لوگ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لینے کے عادی ہوتے ہیں۔پس اگر ہماری طرف سے کوئی جدید چیز پیش کی جاتی تب بھی لوگوں کی مخالفت ضرور ہوتی مگر آجکل جو اعتراض شدت سے کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ جب حضرت مرزا صاحب کوئی نئی چیز نہیں لائے تو ہم آپ پر کیوں ایمان لائیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض جاہل یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے نیا کلمہ بنا لیا ہے یا ان کا نیا قرآن ہے مگر تعلیم یافتہ طبقہ جانتا ہے کہ یہ ساری باتیں جھوٹی ہیں۔وہ جانتا ہے کہ ہم ختم نبوت کا انکار نہیں کرتے ، وہ جانتا ہے کہ ہم مرزا صاحب کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم سمجھتے ہیں ، وہ جانتا ہے کہ تبلیغ اسلام اس وقت صرف ہم لوگ ہی کر رہے ہیں، وہ جانتا ہے کہ معترض پاگل ہیں، وہ جھوٹ بولتے اور لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔مگر وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ جب تم قرآن کو ہی پیش کرتے ہو، جب تم حدیثوں کو ہی منواتے ہو، جب تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر ہی عمل کرواتے ہو تو ہم مرزا صاحب پر کیوں ایمان لائیں؟ اور در حقیقت یہی وہ اعتراض ہے جس کو اس زمانہ میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ مخالف لوگ تو جو کچھ