زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 300

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 300 جلد دوم کہتے ہیں وہ محض جھوٹ ہوتا ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ اس حقیقت کو خوب سمجھتا ہے۔مخالف اگر ہمارے خلاف شور مچاتے ہیں تو محض اس لئے کہ اس مخالفت کے نتیجہ میں ان کا اعزاز بڑھ جاتا ہے اور لوگ ان کی تعریفیں کرنے لگ جاتے ہیں ورنہ جس دن احمدیت کو کامیابی حاصل ہوئی تم دیکھو گے کہ اُس دن وہ بھی ادھر آجائیں گے۔میں ابھی بچہ تھا کہ میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ کبڈی کا میچ ہو رہا ہے۔جس میں ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف غیر احمدی۔غیر احمد یوں میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی شامل ہیں۔احمدی جب کبڈی کے لئے جاتے ہیں تو غیر احمدیوں کو ہاتھ لگا کر آ جاتے ہیں اور وہ سب مرتے چلے جاتے ہیں۔یعنی جس کو ہاتھ لگ جاتا ہے اسے بٹھا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے صرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیچھے رہ گئے۔جب انہوں نے دیکھا کہ اب میں ہی اکیلا رہ گیا ہوں اور میرے سارے ساتھی بیٹھ چکے ہیں تو جس طرح بچے بعض دفعہ دیوار کے ساتھ منہ لگا کر آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیتے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی قریب کی ایک دیوار کے ساتھ منہ لگا کر ادھر بڑھنا شروع کیا۔جب وہ لیکر پر پہنچے تو کہنے لگے اب تو سارے ہی اِدھر آگئے ہیں لو میں بھی آجاتا ہوں اور یہ کہہ کر وہ بھی ہماری طرف آگئے۔اس رویا میں مخالفین کی حالت کا یہی نقشہ کھینچا گیا ہے۔پہلے وہ مخالفت کرتے ہیں مگر جب دیکھتے ہیں کہ سب لوگ مانتے چلے جا رہے ہیں تو وہ بھی آکر شامل ہو جاتے ہیں۔بہر حال وہ دقت جو اس وقت ہمیں پیش آرہی ہے پہلے زمانہ میں مسیحیوں کو بھی پیش آئی تھی۔حضرت مسیح آئے اور انہوں نے کہا یہ مت سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کے صحیفوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔3 اس پر یہودی مفکرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر آپ انہی چیزوں کو قائم کرنے کے لئے آئے ہیں جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں تو پھر ہم آپ پر کیوں ایمان لائیں؟ جیسے اس زمانہ میں کہا جاتا ہے کہ جب مرزا صاحب انہی چیزوں کو قائم کرنے کے لئے آئے ہیں جو اسلام