زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 298

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 298 جلد دوم کر لیتی ہیں تو عرب جانتا ہے کہ اب سوائے مونچھیں نیچی کر لینے کے میرے لئے اور کوئی چارہ نہیں۔غرض ہمارے لئے قدم قدم پر مشکلات ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہماری کامیابی کے راستہ میں جو چیز سب سے زیادہ حائل ہے وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقا در رکھتے ہیں کہ آپ کوئی نئی چیز نہیں لائے۔آپ اسلام کو ہی دوبارہ دنیا میں قائم کرنے کیلئے مبعوث ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہماری طرف سے کوئی نئی چیز پیش کی جاتی تب بھی لوگ مخالفت کرتے کیونکہ لوگوں کو مخالفت کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ چاہئے جو انہیں مل جاتا ہے۔ہمارے ملک میں قصہ مشہور ہے ایک مالدار شخص تھا اس کی یہ عادت تھی کہ ادھر شادی کرتا اور اُدھر چند دنوں کے بعد ہی کوئی بہانہ بنا کر عورت کو طلاق دے دیتا اور اُس کے زیورات اور کپڑے وغیرہ خود رکھ لیتا۔بہانے بنانے تو کوئی مشکل ہی نہیں ہوتے کسی کو کسی بہانہ پر اور کسی کو کسی وجہ سے طلاق دے دیتا۔اس طرح اس نے یکے بعد دیگرے کئی عورتوں کو طلاق دی۔آخر ایک ہوشیار لڑکی کی اُس سے شادی ہو گئی۔اُس نے کوشش کی کی کہ کوئی بہانہ ملے تو اسے طلاق دے دوں مگر وہ کوئی موقع پیدا نہ ہونے دیتی۔خود ہی کھانا پکاتی ، خود ہی کپڑے وغیرہ دھوتی اور خود ہی گھر کے اور کام کرتی۔جب کئی دن گزر گئے اور طلاق دینے کا اُسے کوئی بہانہ نہ مل سکا تو تنگ آکر ایک دن وہ باورچی خانہ چلا گیا۔اس کی بیوی روٹیاں پکا رہی تھی۔اس نے جوتی اپنے ہاتھ میں پکڑ لی اور کہنے لگا کمبخت! تو روٹی تو ہاتھ سے پکاتی ہے تیری کہنیاں کیوں ہلتی ہیں اور اسے زدو کوب کرنا شروع کر دیا۔لڑکی کہنے لگی میں آپ کی لونڈی ہوں آپ جتنا چاہیں مجھے مار لیں مگر اس وقت آپ اپنی طبیعت کو کیوں خراب کرتے ہیں۔کھانے کا وقت قریب ہے آپ پہلے کھانا تو کھا لیں اور جتنا چاہیں مجھے مار لیں۔میں آخر یہیں ہوں کہیں چلی تو نہیں جاؤں گی۔اس نے بھی سمجھا بات درست ہے۔چنانچہ اُس نے بیوی کو چھوڑ دیا۔جب وہ کھانا کھانے کی بیٹھا تو ابھی اس نے ایک دو لقمے ہی منہ میں ڈالے تھے کہ بیوی نے اُس بڑھے کی داڑھی