زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 279
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 279 جلد دوم (4) نمازوں کی پابندی، دعاؤں پر زور کو اپنا شعار بناؤ (5) اطاعت خواہ کوئی افسر ہو ایمان کا جزو ہے۔خود افسر ہو تو نیک سلوک کرو۔دوسرا افسر ہو تو اس کا اس قدر اعزاز اور احترام کرو کہ دیکھنے والے بغیر کہنے کے اس کا اعزاز کرنے لگیں۔اسلام کی روح کو ہر ملک میں اور ہر زمانہ میں زندہ رکھنے اور وسیع کرنے کی کوشش کرو۔“ مندرجہ ذیل ہدایات حضرت خلیفہ السیح الثانی نے چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی واقف زندگی کو 29 ستمبر 1945ء کو اپنے ہاتھ سے لکھ کر عطا کیں۔جبکہ چودھری صاحب موصوف تعلیم کے لئے ولایت کو روانہ ہونے والے تھے۔(1) اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھیں اور اس پر تو کل کا ملکہ پیدا کریں۔(2) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذاتی تعلق اور کمال محبت۔(3) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو نہ بھولیں۔(4) امام وقت و خلیفہ وقت کی اطاعت اور اس سے ذاتی تعلق روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔(5) ہر واقف اور مجاہد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو سلسلہ کا ستون سمجھے اور اپنے آپ کو سلسلہ کی روایات کے قیام کا ذمہ دار قرار دے۔اس کے بغیر وقف کی نہ غرض پوری ہوتی ہے اور نہ روایات میں تسلسل پیدا ہوتا ہے جو ضروری ہے۔اور (6) یا درکھیں کہ کام اور محنت سے ایک کام اور عقل سے کام کرنا اہم ترین فریضہ ہے۔(7) علم کو وسیع کرو۔“ (الفضل یکم اکتوبر 1945ء)