زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 278

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 278 جلد دوم ولایت جانے والے واقفین کو اہم ہدایات مندرجہ ذیل ہدایات حضرت خلیفقہ اسیح الثانی نے محترم چودھری عبدالطیف صاحب بی۔اے واقف زندگی کو 29 ستمبر 1945ء کو اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیں۔جبکہ چودھری صاحب موصوف تعلیم کے لئے ولایت روانہ ہونے والے تھے:۔(1) اللہ پر توکل کرتے ہوئے جاؤ۔اس پر ایمان کو مضبوط کرو اور اس کی محبت کو بڑھاتے رہو۔یہاں تک کہ دل کی آنکھوں، دماغ کی آنکھوں اور ماتھے کی آنکھوں سے وہ نظر آنے لگے اور دل و دماغ اور بیرونی کانوں سے اس کی آواز سنائی دینے لگے۔(2) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں کے سردار ہیں۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے خادم ہیں۔خادم کو آقا سے جدا نہ سمجھو۔مگر آقا کو آقا کا اور خادم کو خادم کا مقام دو اور دونوں کی محبت میں سرشار رہو۔(3) خدا تعالیٰ نے ہمیں خلیفہ ہی نہیں بنایا بلکہ اس زمانہ میں خدمت اسلام کا کام خاص طور پر ہمارے سپرد کیا ہے اور اسلام کی ترقی ہم سے وابستہ کی ہے اس لئے ہمارا مقام عام خلافت سے بالا ہے۔ہمارا کام خدا تعالیٰ کے خاص ہاتھ میں ہے۔ہماری ذاتی عظمت کوئی نہیں نہ ہم اپنے لئے کوئی خاص عزت چاہتے ہیں۔مگر ہم اللہ تعالیٰ کی تلوار ہیں جو ہمارے سایہ میں لڑتا ہے وہ اپنے لئے جنت کا دروازہ کھولتا ہے۔جو ہم سے ایک انچ بھی دور ہوتا ہے وہ اسلام سے دشمنی کرتا ہے اور اس کی ترقی میں روک ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور ہدایت بخشے۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ اس کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔جس کے یہ معنے ہیں کہ خود اس کا وجود پیش کرنا بھی اس وقت اسلام کی ترقی کے لئے مفید ہے۔