زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 280
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 280 جلد دوم مغرب سے طلوع شمس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی 16/اکتوبر 1946ء بعد نماز عصر جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کی انگلستان سے کامیاب مراجعت اور محترم منیر آفندی اٹھنی صاحب امیر جماعت احمد یہ دمشق کی تشریف آوری پر ایک دعوت چائے دی جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو پُر معارف تقریر فرمائی وہ حسب ذیل ہے:۔صلى الله چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہونے والا ہے اس لئے میں بہت مختصر تقریر کروں گا۔میں اس وقت صرف ایک بات کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔باتیں تو کئی تھیں مگر چونکہ نماز کا وقت تنگ ہے اس لئے میں صرف اس امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالٰی اور اس کے انبیاء کے کلام کے کئی بطن ہوتے ہیں اور ہر بطن اپنے اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔رسول کریم نے قرآن کریم کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کے سات بطن ہیں اور سات بطنوں میں سے آگے ہر بطن کی الگ الگ تفاسیر ہیں۔1 اسی طرح ایک ایک آیت سینکڑوں اور ہزاروں معانی پر مشتمل ہے۔غلطی سے مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ قرآن کریم صرف چند تفسیروں میں محصور ہے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہر معنے جو عربی زبان سے درست ثابت ہوتے ہیں، ہر معنے جسے عربی صرف ونحو برداشت کرتے ہیں اور ہر معنے جو قرآن کریم کی ترتیب سے نکلتے ہیں وہ درست اور صحیح