زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 265

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 265 جلد دوم اور اسی زندگی کو اچھا سمجھتا ہے۔لیکن بڑھاپے میں جب انسان موت کو قریب دیکھتا ہے تو پھر اسے دنیا کی زندگی ذلیل اور حقیر نظر آتی ہے۔بہر حال ہر ایک انسان دو باتوں میں سے ایک کا ضرور قائل ہوتا ہے۔اگر وہ اس بات کا قائل ہے کہ مرنے کے بعد کوئی نئی زندگی ہے تو پھر بھی مرنے کے وقت وہ خوش نہیں ہوتا بلکہ اس کے دل میں افسوس پیدا ہوتا ہے کہ موت کے بعد کی زندگی کے لئے میں نے کوئی تیاری نہیں کی اور میں نے اپنی ساری زندگی دنیا کے کاموں میں ضائع کر دی۔اور اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں پھر بھی موت کے وقت اس کے دل میں حسرت پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ زندگی میرے کس کام آئے گی۔قرآن مجید میں آتا ہے کہ مرنے کے بعد کا فرحسرت کے ساتھ کہے گا کہ کاش! مجھے پھر دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے تا کہ میں اچھے عمل کروں۔خدا تعالیٰ اسے فرمائے گا کہ میں نے تمہیں موقع دیا تھا مگر تم نے اس کو ضائع کر دیا اب اور کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔4 پس اسلام انسان کے اندرونی جذبات کو کچلتا نہیں بلکہ جس طرح دریا میں سے نہریں نکال کر اس سے کھیتوں کو سیراب کیا جاتا ہے، اس سے بجلیاں پیدا کی جاتی ہیں اور اسی طرح دوسرے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں اسی طرح اسلام فطرت کے پانی کو صحیح نالی میں سے گزارتا اور فطرت کا صحیح استعمال سکھاتا ہے تا کہ انسان کی زندگی برباد نہ ہو اور موت کے وقت اسے یہ گھبراہٹ نہ ہو کہ میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی۔“ ( الفضل 7 فروری 1961ء) 1: آل عمران : 105 2: کیسو کے پھول: ایک پھول جو پانچ پنکھڑیوں کا ہوتا ہے اور ہر پنکھڑی شیر کے ناخن کے مشابہہ ہوتی ہے۔(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 15 صفحہ 533 مطبوعه محیط اردو پریس کراچی) 3: الحج : 38 :4 قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلَّى أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا (المومنون: 101،100)