زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 264
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 264 جلد دوم کا خط آیا ہے کہ لندن کا ایک لارڈ جو پریوی کونسل کا حج تھا اور اب ریٹائر ہو چکا ہے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کا واقف ہے میں اسے ملنے گیا تو وہ کہنے لگا مجھے اپنی گزشتہ زندگی پر افسوس آ رہا ہے اور مجھے وہ زندگی اب پیچ نظر آتی ہے۔جس وقت میں جوان تھا اُس وقت میرے دل میں یہ امنگیں تھیں کہ میں کامیاب وکیل بنوں۔جب میں وکیل بنا اور میری وکالت کامیاب ہوگئی تو پھر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مجھے کوئی بڑا عہدہ مل جائے۔چنانچہ مجھے عہدہ بھی مل گیا اور میں پریوی کونسل کا حج بنا۔پھر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مجھے کوئی خطاب مل جائے۔آخر میری یہ خواہش بھی پوری ہو گئی اور مجھے لارڈ کا خطاب ملا۔لیکن اب جبکہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں یہ تمام چیزیں جو اُس زمانہ میں میرے مقاصد عالیہ میں شامل تھیں مجھے ذلیل اور حقیر نظر آتی ہیں۔اور میں حیران ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کو کیوں برباد کر دیا اور میں سوچتا ہوں کہ اب میں مرنے والا ہوں اگر مرنے کے بعد بھی اسی قسم کی زندگی ملے گی جیسا کہ عیسائیت نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اگلی زندگی میں انسان کو پورے کا پورا اسی شکل میں اٹھایا جائے گا تو میری فطرت اس کو ماننے سے انکار کرتی ہے۔میں نے اسے بتایا کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ مرنے کے بعد اسی شکل میں انسان کو اٹھایا جائے گا بلکہ اسلام مرنے کے بعد روحانی زندگی کا قائل ہے۔کہنے لگا یہ تعلیم بے شک ایسی ہے کہ اس سے دل کو تسلی ہوتی ہے۔چنانچہ ملنے کے بعد جب میں واپس آیا تو تھوڑے دنوں کے بعد اس کا خط ملا کہ مجھے آ کر اسلام کی اور تعلیم بتائیں۔معلوم نہیں اس کی نیت مسلمان ہونے کی ہے یا نہیں۔مگر اس کی طبیعت پر اس بات کا اثر ضرور ہے کہ اسلام کی تعلیم ہی فطرت کے مطابق اور انسان کی تسلی کا موجب ہے۔در حقیقت انسان جوانی میں نیچے سے اوپر کی طرف دیکھتا ہے اور اسے اوپر کی چیزیں اچھی نظر آتی ہیں لیکن بڑھاپے میں اوپر سے نیچے کی طرف دیکھتا ہے اس لئے وہی چیزیں جو جوانی میں اسے شاندار نظر آتی تھیں بڑھاپے میں اسے حقیر نظر آتی ہیں۔پھر جوانی میں انسان موت کو اتنا بعید سمجھتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی کے لئے کوئی تیاری نہیں کرتا