زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 263

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) صلى الله 263 جلد دوم مسلمان بناتے تو سالانہ آٹھ دس لاکھ ہند و مسلمان ہو جاتے اور آج کوئی ہندو د یکھنے کو نہ ملتا۔مگر یہ لوگ بیٹھے لکھیاں مارتے رہے اور کبوتروں اور بھیڑوں کا شکار کرتے رہے اور دین کی تبلیغ سے غافل ہو گئے۔یہ جو تیتروں اور بٹیروں اور کبوتروں کا شکار کرنے والے ہیں ان کے شکار سے بھلا قوم کو کیا نفع پہنچ رہا ہے۔اگر شکار کے جذبہ کی روکو رسول کریم کی اتباع میں اس طرف پھیر دیا جاتا کہ بجائے تیتروں اور بٹیروں کا شکار کرنے کے انسانوں کا شکار کیا جائے تو ہندوستان میں ہندو مسلمان کا جھگڑا ہی پیدا نہ ہوتا۔ہندوؤں کے ایک لیڈر جو وائسرائے کی کونسل کے ممبر بھی تھے ایک دفعہ مجھے ان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔باتوں باتوں میں وہ کہنے لگے میں مسلمان بادشاہوں کا سخت مخالف ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اسی قابل ہیں کہ ان سے دشمنی رکھی جائے۔مگر میری دشمنی اور دوسرے ہندوؤں کی دشمنی میں فرق ہے۔دوسرے ہندوؤں کی ان سے دشمنی کی وجہ تو یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مسلمان بادشاہ ہندوؤں کو زبر دستی مسلمان بناتے تھے۔لیکن میری دشمنی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کو زبر دستی مسلمان کیوں نہ بنا لیا۔اگر وہ اُس وقت سارے ہندوؤں کو زبر دستی مسلمان بنا لیتے تو آج ہمیں محسوس بھی نہ ہوتا کہ ہمارے باپ دادوں کو زبر دستی مسلمان بنایا گیا تھا۔ہم بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح مسلمان ہوتے اور یہ سارا فساد اور ہندو مسلمان کا تمام جھگڑا مٹ جاتا۔پس میری اور دوسرے ہندوؤں کی مسلمان بادشاہوں سے دشمنی میں یہ فرق ہے کہ وہ کہتے ہیں مسلمان بادشاہ ہندوؤں کو ز بر دستی مسلمان بناتے تھے اور میں کہتا ہوں کہ انہوں نے تمام ہندوؤں کو زبر دستی مسلمان کیوں نہ بنایا۔حقیقت یہ ہے کہ زبردستی اور جبر تو اسلام میں جائز نہیں۔لیکن اگر مسلمانوں کے اندر خدمت دین کا جذبہ ہوتا اور وہ اسلامی طریق کے مطابق تبلیغ کرتے تو آج سارا ہندوستان مسلمان ہوتا۔اب پھر خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو موقع دیا ہے اگر احمدی صحیح رنگ میں تبلیغ کریں تو وہ دن دور نہیں جب پھر ہمارے ذریعہ سے خدا تعالی اسلام کو غلبہ دے گا۔لوگوں کے قلوب میں تغیر پیدا ہو رہا ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے مولوی جلال الدین صاحب شمس