زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 255

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 255 جلد دوم کام نہیں لیا جا سکتا جتنا یہاں یا بعض اور علاقوں میں لیا جاسکتا ہے۔ملیر یا وہاں بہت عام ہے۔پھر غذا خراب ملتی ہے۔اس لئے وہاں کام کا عرصہ زیادہ لمبا نہیں کیا جا سکتا۔اور وہاں کام کرنے والے مبلغین کو ایک معین وقت کے بعد واپس بلانا ضروری ہوگا ورنہ آب و ہوا کے زیراثر ان کی صحت پر بہت برا اثر ہوگا اور ان کی زندگی بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہمیں کافی تعداد میں مبلغین ملتے جائیں اور ایک کے بعد دوسرا جانے کے لئے تیار ہوتا جائے۔میں خوش ہوں کہ ہمارے نوجوان زندگیاں وقف کر رہے ہیں اور ہائی سکول نے بھی اس بارہ میں اچھا نمونہ دکھایا ہے۔میں کالج کے نو جوانوں کو بھی تحریک کرتا ہوں کہ وہ بھی اس طرف توجہ کریں۔اگر کالج کے افسر یہاں موجود ہوں تو میں ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ طلباء میں اس کی تحریک کریں۔بعض تو جوان جو ہائی سکول میں تعلیم پاتے وقت اگر چھوٹی عمر ہونے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکے تو وہ اب کریں تا کچھ عرصہ کے بعد ہمارے پاس مبلغین کی تعداد کافی ہو جائے اور ہم سہولت اور دلیری کے ساتھ انہیں دنیا میں تبلیغ کے لئے پھیلا سکیں۔یہ موقع تفاصیل بیان کرنے کا نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو پھر کسی وقت بیان کروں گا کہ کم سے کم تبلیغ کے لئے ہمارے پاس کتنا سامان ہونا چاہئے اور کس کس رنگ میں کام شروع کرنا چاہئے۔اس موقع پر میں صرف یہی نصیحت کرتا ہوں کہ جن نوجوانوں کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ اپنے والدین اور سر پرستوں سے مشورہ کرنے کے بعد اپنے آپ کو وقف کریں۔کالج کے افسروں کو چاہئے کہ وہ اپنے طلباء میں اس کے لئے تحریک کریں۔بعض نوجوان باہر سے نئے آ رہے ہیں۔بعض ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ جنہیں سکول میں تو اس کی توفیق نہیں ملی مگر اب بڑے ہونے کی وجہ سے ان میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہو اور وہ اب اپنے آپ کو پیش کر دیں۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں جو مبلغ جا رہے ہیں وہ واقف سے مجاہد بن رہے ہیں۔واقف وہ ہوتا ہے جس نے زندگی وقف کر دی ہو مگر ابھی جہاد میں شرکت کا موقع اسے نہ ملا