زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 254

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 254 جلد دوم تک یہ نہ ہو اپنا معیار بھی نیچے رکھے تا مساوات قائم ہو سکے اور باہم میل جول میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔جب تک دنیا میں ایسی اقوام موجود ہیں جو ادنیٰ حالت میں ہیں اُس وقت تک ہمارے لئے کسی اونچی جگہ کا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں۔اُس وقت تک ہمارے لئے ایک ہی رستہ ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ جو کچھ دے لے لیں اور پھر اسے دوسروں کی بہتری اور بھلائی کے لئے خرچ کریں اور دوسروں کو اوپر لے جانے کے لئے اسے کام میں لائیں اور جب دوسرے بھی اوپر آجائیں تو پھر خود بھی آئیں۔صحابہ کرام نے بے شک دولتیں بھی کمائیں مگر انہیں اپنے آرام و آسائش پر خرچ نہیں کیا بلکہ دین کی راہ میں خرچ کرتے رہے۔ابھی دنیا میں اربوں انسان ایسے ہیں کہ جن کے جسم بھی اور جن کی روحیں بھی انتہائی غربت کی حالت میں ہیں اور ان سب کی اصلاح ہمارے ذمہ ہے۔جب تک ان کی اصلاح نہ ہو جائے ہمیں اپنے آرام کا خیال تک بھی نہ کرنا چاہئے۔اور اپنی زندگیوں کو ایسا سادہ بنانا چاہئے کہ غرباء کے ساتھ بآسانی مل سکیں اور اپنی باتیں انہیں سنا سکیں۔وہ ہمیں دیکھ کر دور نہ بھا گئیں بلکہ قریب آئیں اور ہماری باتوں کو سنیں۔اگر ہمارے نوجوان اسی طرح غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے جاتے رہیں جس طرح اب یہ نوجوان جارہے ہیں تو یہ ایک ایسی خوشکن بات ہوگی جس پر رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ناز اور فخر کر سکتے ہیں اور ہم اس کام کی ابتدا کر سکتے ہیں کہ جو ہمارے سپرد ہے۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ دوسرے نوجوانوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو۔وہ اپنے آپ کو پیش کریں۔اسلام کی تبلیغ کے لئے بیرونی ممالک میں جانے پر خوشی کا اظہار کریں اور ان لوگوں کے پیچھے ایک لمبی اور کبھی نہ ٹوٹنے والی زنجیر بنائی جاسکے۔ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا جانے کے لئے اپنے آپ پیش کرتا جائے۔کیونکہ کروڑوں افراد کی آبادی رکھنے والے ممالک کے لئے ہزاروں مبلغین کی ضرورت ہے۔افریقہ کے بعض علاقے ایسے ہیں کہ وہاں عمریں کم ہو جاتی ہیں۔ہندوستان میں بھی گو عمر کی اوسط بہت کم ہے مگر وہاں اس سے بھی کم ہے۔ایسے علاقوں کے مبلغین سے اتنا عرصہ