زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 225

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 225 جلد دوم دو ہزار روپے کی ہو تو وہ باقی رقم کہاں سے ادا کرے گا۔اس صورت میں شریعت اس فعل کی ذمہ داری اس کی قوم پر ڈالتی ہے جس کا وہ فرد ہے۔اس کی قوم باقی روپیہ جمع کر کے اس کے نقصان کی تلافی میں ادا کرے گی۔تو اسلام نے قانونی وجود کو بڑی وضاحت سے تسلیم کیا ہے۔نادان لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر کیا ذمہ داری ہے حالانکہ اسلام نے شخصی وجود کو بھی تسلیم کیا ہے اور قانونی وجود کو بھی تسلیم کیا ہے۔پس جب تک ہماری جماعت کے افراد میں اس کا احساس نہیں ہوتا وہ ان مبلغین کی قربانیوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے۔یہ کام سب افراد جماعت پر فرض ہے۔مبلغین اس کام کو بطور فرضِ کفایہ کرتے ہیں وہ جہاں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں وہاں قوم کی ذمہ داری کو بھی ادا کرتے ہیں۔ہمارے سب مبلغین جو انگلستان، امریکہ، افریقہ، عرب اور دیگر ممالک میں تبلیغ کرتے ہیں وہ فرضِ کفایہ ادا کرتے ہیں اور ہماری طرف سے اس ذمہ داری کو جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کی ہے ادا کرتے ہیں۔اور جب وہ ہمارا کام کرتے ہیں تو ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم ان کا حق ادا کریں۔پس میں اپنی جماعت کے نو جوانوں کو خصوصاً اور دوسرے احباب کو عموماً یہ نصیحت کرتا کی ہوں کہ ملک اور قوم کے قانونی وجود کو سمجھیں۔آرام سے بیٹھے رہنے اور اعتراض کرنے سے قو میں ترقی نہیں کرتیں۔نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں اور مبلغین کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے۔ان کے نزدیک گویا یہ لوگ ان کے باپ دادوں کا قرضہ اتار رہے ہیں وہ اپنی نادانی سے یہ نہیں سمجھتے کہ یہ لوگ ہمارا ہی کام کر رہے ہیں۔ایسے لوگوں کی مثال اس عورت کی سی ہے جو ایک اور عورت کے گھر آٹا پینے کے لئے گئی۔اُس نے اُس سے چکی مانگی گھر کی مالکہ نے اُسے چکی دے دی۔تھوڑی دیر کے بعد اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ رات آٹا پیتے پیتے تھک گئی ہوگی اور اس کی مدد کروں۔چنانچہ اُس نے اُسے کہا کہ بہن! تم تھک گئی ہوگی تم ذرا آرام کر لو میں تمہاری جگہ چکی پیستی ہوں۔وہ عورت چکی پر سے اُٹھ بیٹھی اور اِدھر اُدھر پھرتی رہی۔اچانک اُس کی نظر ایک رو مال پر جا پڑی جس میں روٹیاں تھیں۔اُس نے وہ رومال کھولا اور گھر کی مالکہ کو کہا بہن !