زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 226

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 226 جلد دوم تو میرا کام کرتی ہے تو میں تیرا کام کرتی ہوں اور یہ کہہ کر اُس نے روٹی کھانی شروع کر دی۔تو بعض لوگ اس قسم کی روح ظاہر کرتے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ مبلغ کا شکریہ ادا کریں اور اس کی قربانیوں کی قدر کریں وہ ان پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں گویا وہ مبلغ اُن کے باپ دادے کا قرض دار تھا اور اب وہ قرضہ ادا کر رہا ہے اور اگر اُس نے کی قرضہ کی ادائیگی میں ذرا بھی سنتی دکھائی تو اُس کے گلے میں پڑکا ڈال کر وصول کر لیا ؟ جائے گا۔اس قسم کے اعتراضات کرنے والے بڑے بے شرم ہیں۔وہ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ یہ ہمارا حق ادا کر رہا ہے اور جس کام کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہم پر رکھی ہے اسے یہ کی سرانجام دے رہا ہے۔وہ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں اور اعتراض کرنا ا شروع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگ قومی شخصیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے صرف فردی شخصیت کو سمجھتے ہیں۔پس ہماری جماعت کے ان لوگوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور اس کی اصل حقیقت سے واقف ہونا چاہئے۔ان ایڈریسوں میں ہمارے بچوں کے آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جسمانی طور پر بچوں کا آنا بے شک خوشی کا موجب ہوتا ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔میں غلط بیانی کروں گا اگر کہوں کہ مجھے ان بچوں کے آنے کی خوشی نہیں ہوئی۔دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو ایسے موقع پر خوش نہ ہو۔باپ یا بھائی یا بیٹے کے آنے کے علاوہ کسی کا کوئی دوست بھی آئے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اُس کے دل میں خوشی کے جذبات پیدا نہ ہوں لیکن جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے اُس نے ہم میں ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ صرف جسمانی قرب ہمارے دلوں میں حقیقی راحت پیدا نہیں کر سکتا۔بے شک ایسے مواقع پر انسان کو خوشی ہوتی ہے اور بہت سا اطمینان بھی انسان حاصل کر لیتا ہے لیکن پھر بھی درمیان میں ایک پر وہ حائل ہوتا ہے جو بعض دفعہ ہمارے قرب کو بعد میں تبدیل کر دیتا ہے۔پس حقیقی خوشی ہمیں اُس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس پردہ کو بھی دور نہ کیا جائے۔