زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 224
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 224 جلد دوم غرض اسلام نے فرضِ کفایہ میں شخصیت قومی کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور اس کی رو سے اسلام نے فرد پر بھی بعض حقوق رکھے ہیں اور قوم پر بھی بعض حقوق رکھتے ہیں۔دوسرے ہے۔جس طرح فرد ایک قانونی حیثیت رکھتا ہے ویسے ہی قوم بھی ایک قانونی حیثیت رکھتی۔فرد بے شک حقیقی وجود بھی ہے اور قانونی وجود بھی۔اور اس کے مقابل پر قوم صرف قانونی وجود ہے حقیقی وجود نہیں۔مگر اس پر قانونی وجود کے لحاظ سے ویسے ہی حقوق ہیں جیسے قوم کے ایک فرد پر۔اسلام نے بعض امور کے کرنے کا قوم کو حکم دیا ہے۔اگر قوم کے افراد میں سے بعض نے وہ امور سرانجام دے دیئے تو اس صورت میں ساری قوم بری الذمہ ہو جائے گی۔اور اگر کوئی فرد بھی وہ کام نہ کرے تو اس صورت میں ساری قوم پکڑی جائے گی۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے اور قرآن مجید کی آیات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ جھوٹی قسم کھانے سے ملک برباد ہو جاتا ہے 4 حالانکہ جھوٹی قسم کھانے والا صرف ایک فرد ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہاں ملک کو قانونی وجود کے لحاظ سے تسلیم کیا گیا ہے قوم کا فرض ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی نگرانی کرے اور اگر وہ نگرانی نہیں کرتی تو اس صورت میں گویا وہ اپنے ملک کو آپ تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ہماری شریعت نے بعض مقامات پر قتل یا اسی قسم کے بعض اور جرائم کی سزا جرمانہ کی صورت میں رکھی ہے۔اگر کوئی ان جرائم میں سے کسی کا مرتکب ہو اور وہ جرمانہ ادا نہ کر سکے تو اس صورت میں وہ جرمانہ سب قوم سے وصول کیا جائے گا عملی طور پر بھی رسول کریم ﷺ نے ایسا کیا ہے کیونکہ فرد کا نقصان قوم کا نقصان ہے اور اس کی تلافی بہر حال کسی طرح ہونی چاہئے۔اگر وہ فرد یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنے جرم کا بدلہ جرمانہ کی صورت میں ادا کرے تو پھر قوم کو اس کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ قوم پر ہر فرد کے ایسے افعال کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اگر قوم اس سے نقصان دلوا سکتی ہے تو دلوادے ورنہ قوم کو اس نقصان کی تلافی کرنی ہو گی۔اگر کوئی شخص جرم کرے اور اس جرم کے عوض میں اس پر دس ہزار روپیہ جرمانہ کر دیا جائے اور اس کی حیثیت صرف