زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 197
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 197 صل الله جلد دوم کوئی جواب نہ دے سکے۔صرف انہوں نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہاں میں خدا کے حکم کے ماتحت ہی تمہیں یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔حضرت ہاجرہ نے جب یہ دیکھا تو فوراً بول اُٹھیں اِذًا لايُضَيِّعُنَا 2 1 اگر یہی بات ہے تو خدا ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔یہ بچہ جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کی وہی اسمعیل ہیں جن کی نسل سے محمد رسول اللہ سے پیدا ہوئے اور وہی اسمعیل ہیں جن کی نسل نے خانہ کعبہ کی حفاظت اور اُس کی تقدیس کیلئے اپنی عمر میں وقف کر دیں۔پس یہ چھ سال کا بچہ تھا جس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کر دیا۔پھر اگر تم میں سے کوئی ایسا ہے جو چھ سال سے بھی کم عمر رکھتا ہے تو مجھے اپنے ایک بچے کا واقعہ یاد ہے۔اُس کی عمر کوئی پانچ سال کی تھی۔وہ ایک دفعہ مکان میں ایک جگہ کھڑا تھا اور میں دوسرے کمرہ میں تھا کہ مجھے آواز آئی کہ لڑکے اکٹھے ہو کر اسے چھیڑ رہے ہیں اور ڈرانے والی باتیں کر رہے ہیں۔وہ اسے کہہ رہے تھے کہ اگر رات کا وقت ہو اور تمہیں ایک ایسے جنگل میں سے گزرنے کیلئے کہا جائے جس میں شیر، چیتے اور بھیڑیئے رہتے ہوں تو کیا تم ڈرو گے نہیں ؟ وہ کہنے لگا ہاں ڈروں گا۔پھر لڑکوں نے مختلف لوگوں کے نام لئے کہ اچھا اگر فلاں کی کہے تو تم وہاں ٹھہرو گے یا نہیں ؟ وہ کہے نہیں۔آخر ایک نے کہا اگر تمہارے ابا تمہیں کہیں کہ اس جنگل میں رات کو ٹھہر و تو کیا تم ٹھہرو گے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا نہیں۔آخر ایک نے کہا اگر خدا کہے تو ؟ مجھے خوب یاد ہے اُس نے آگے سے یہی جواب دیا کہ اگر خدا کہے تو پھر ٹھہر جاؤں گا۔تو چھوٹے چھوٹے بچوں میں بھی قربانی کا مادہ ہوتا ہے جسے اگر قائم رکھا جائے تو اس سے نہایت مفید تغیرات پیدا ہو سکتے ہیں۔پس اگر تم پانچ چھ سال عمر کے بچے ہو تو تم بھی دین کی اعلیٰ خدمات سرانجام دے سکتے ہو۔صرف اتنا ہونا چاہئے کہ تمہارے اندر سمجھنے کی قابلیت ہو اور تمہیں سمجھانے والے خاص توجہ سے کام لیں۔اب بھی تم میں سے چھوٹے سے چھوٹے بچے اپنے دل میں فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم نے بڑے ہو کر خدا تعالیٰ کے دین کا کام کرتا ہے۔اور اگر وہ اپنے دل میں فیصلہ