زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 198

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 198 جلد دوم کر لیں تو خدا تعالیٰ اس کے مطابق انہیں کام کرنے کی توفیق بھی دے دے گا۔اس وقت نہ میری صحت مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں اور تقریر کروں اور نہ وقت اس کی اجازت دیتا ہے ورنہ میں انبیاء علیھم السلام کو مستی کرتے ہوئے عام بزرگانِ دین کی اولا دوں کے ایسے نمونے بیان کر سکتا تھا جنہوں نے نہایت اعلیٰ دینی خدمات سرانجام دی ہیں۔اور دنیوی لوگوں میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں ہدایت نہ ملی دنیوی لحاظ سے انہوں نے نہایت شاندار کام کئے۔مگر جو مثالیں میں نے بیان کی ہیں ان میں بھی تمہارے لئے اسوہ حسنہ اور اعلیٰ تعلیم موجود ہے۔صرف توجہ اور عمل کی ضرورت ہے۔پس میں پھر تم کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تمہارے اساتذہ، بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ، ٹیوٹروں اور تحریک جدید کے دوسرے تمام کارکنوں سے کہتا ہوں کہ یہ کام کوئی معمولی کام نہیں ایک عظیم الشان کام ہے جو ہمارے سامنے ہے۔جس وقت انسان کوئی نیا کام شروع کرتا ہے ناواقف لوگوں کے ذریعہ شروع کرتا ہے جو آہستہ آہستہ اپنے کام میں اکسپرٹ (EXPERT) ہو جاتے ہیں۔میں نے بھی تحریک جدید کا کام نا تجربہ کار ہاتھوں سے شروع کیا ہے اور ہم اس کام کے نتیجہ میں اکسپرٹ اور کام کے ماہر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اگر کارکن اس بارے میں مستعدی اور ہوشیاری سے کام نہیں لیں گے اور اپنے فرائض تندہی سے ادا نہیں کریں گے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم ہو جائیں گے۔لیکن یہ کام بہر حال ہو کر رہے گا۔خدا تعالیٰ کی باتیں دلوں پر اثر کئے بغیر نہیں رہتیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ اس کام کو خوش اسلوبی سے کیا جائے اور ہم ناکام ہوں۔اگر ہم ناکام ہوں تو یہ ہماری بد دیانتی اور ستی اور غفلت کا ثبوت ہو گا۔اس امر کا ثبوت نہیں ہو گا کہ یہ کام خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ یہ کام یقیناً ہو سکتا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتا چلا جائے گا۔پس میں ان طالب علموں کو جو تحریک جدید کے بورڈنگ میں داخل ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور کارکنان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ انہیں پوری طرح تیار کریں۔یہاں تک کہ یہاں سے جو پود نکلے وہ مِنْهُم مَّن يُنْتَظِرُ والی جماعت ہو۔جو